تیل اور گھی پر عوام سے فی کلو 175 روپے کی اضافی وصولی
اشاعت کی تاریخ: 26th, July 2025 GMT
حکومت کا نوٹس، گھی اور کوکنگ آئل انڈسٹری میں کارٹل کی تحقیقات شروع کرائے جانے کا امکان
ای سی سی کے اجلاس میں مقامی مارکیٹ میں کوکنگ آئل اور گھی کی قیمتوں میں اضافے پر غور جاری
ملک میں خوردنی تیل اور گھی پر عوام سے فی کلو 175 روپے تک اضافی وصولی کا انکشاف ہوا ہے، وفاقی حکومت نے معاملے کا نوٹس لے لیا، اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں مسابقتی کمیشن کے ذریعے گھی اور کوکنگ آئل انڈسٹری میں کارٹل کی تحقیقات شروع کرائے جانے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق عالمی مارکیٹ میں کوکنگ آئل کی قیمتوں میں 25 فیصد تک کمی ہوئی، عالمی مارکیٹ میں کوکنگ آئل اور گھی کی قیمتوں میں 25 فیصد تک کمی کے باوجود پاکستان میں اضافہ ہوا۔ذرائع کے مطابق عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں کمی کے باوجود پاکستانی عوام سے 150 سے 175 روپے فی کلو اضافی وصول کیے جارہے ہیں۔اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے اجلاس میں مقامی مارکیٹ میں کوکنگ آئل اور گھی کی قیمتوں میں اضافے پر غور جاری ہے، ای سی سی معاملے پر غور کے بعد اہم فیصلے کرے گی۔اجلاس میں مسابقتی کمیشن کے ذریعے گھی اور کوکنگ آئل انڈسٹری میں کارٹل کی تحقیقات شروع کرائے کا امکان ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: کی قیمتوں میں اجلاس میں اور گھی
پڑھیں:
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پیٹرول مہنگا ہو تو موٹرسائیکل سوار متاثر نہیں ہوتے، مشیر خزانہ کے بیان پر شدید ردعمل
نوٹیفکیشن کے مطابق اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔
نئی قیمتیں نافذجاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ملک بھر کے پیٹرول پمپوں پر صارفین کو نئی قیمتوں کے مطابق ادائیگی کرنا ہوگی۔
عوام پر مزید مالی دباؤ کا خدشہمعاشی ماہرین کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں پر بھی دباؤ آ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:ایران جنگ کے اثرات: پیٹرول مہنگا، یورپ میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں 51 فیصد اضافہ
ڈیزل کی قیمت میں اضافہ خاص طور پر مال بردار ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے اخراجات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
حکومت ہر 15 روز بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، درآمدی لاگت، روپے کی قدر اور ٹیکسوں کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیتی تھی لیکن اب روزانہ کی بنیاد پر یہ عمل جاری ہے۔
اسی جائزہ عمل کے تحت تازہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمتیں ملک بھر میں نافذ العمل ہو گئی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پیٹرول پیٹرولیم مصنوعات درآمدی لاگت ڈیزل روپے کی قدر عالمی منڈی مہنگا