بی ایم ڈبلیوگاڑیوں کے خریداروں کے لیے خوشخبری! قیمتوں میں لاکھوں کی کمی
اشاعت کی تاریخ: 25th, July 2025 GMT
لاہور (نیوز ڈیسک) اگر آپ ہمیشہ سے BMW گاڑی خریدنے کا خواب دیکھتے آئے ہیں، تو اب یہ خواب حقیقت بننے کے قریب ہے، کیونکہ دیوان موٹرز نے اپنی لگژری گاڑی BMW X5 xDrive50e Plug-in Hybrid (PHEV) کی قیمت میں زبردست کمی کا اعلان کر دیا ہے۔
اس نئی پیشکش کے تحت خریدار اصل قیمت سے 76 لاکھ 40 ہزار روپے کی بچت حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ ایس یو وی، جو پہلے 9 کروڑ 66 لاکھ 40 ہزار روپے میں دستیاب تھی، اب صرف 8 کروڑ 90 لاکھ روپے میں دستیاب ہے، جس سے یہ طاقتور پلگ اِن ہائبرڈ گاڑی پاکستان کے لگژری گاڑیوں کے خریداروں کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ قابلِ رسائی بن گئی ہے۔
دیوان موٹرز کے مطابق یہ قیمت میں کمی ماحول دوست، ذہین ڈرائیونگ کو فروغ دینے کی ایک بڑی کوشش ہے، جو لگژری پر کسی قسم کا سمجھوتہ کیے بغیر کی جا رہی ہے۔ یہ اقدام مقامی لگژری آٹو مارکیٹ کو بھی متاثر کر سکتا ہے اور ممکن ہے کہ دیگر برانڈز کو بھی اپنی قیمتوں پر نظر ثانی کرنا پڑے۔
پاکستان میں 2025 کے لیے BMW گاڑیوں کی قیمتیں:
| Model | Price |
| BMW X4 xDrive28i | 18,600,000 |
| BMW 5 Series 530e | 53,000,000 |
| BMW X1 sDrive18i | 30,000,000 |
| BMW 3 Series 318i | 12,000,000 |
| BMW X7 xDrive40i | 29,000,000 |
اگر آپ لگژری کار کے ساتھ ماحول دوست ڈرائیونگ کی طرف قدم بڑھانے کا سوچ رہے ہیں، تو یہ پیشکش آپ کے لیے سنہری موقع ہو سکتی ہے۔ نئی قیمت کے ساتھ BMW X5 PHEV اب صرف ایک خواب نہیں، بلکہ حقیقت کے قریب ہے۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔