کراچی:

ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین ملک بوستان نے کہا ہے کہ ڈالر کی قیمت میں اب مزید اضافہ نہیں ہوگا اور عوام ڈالر کی ذخیرہ اندوزی سے گریز کریں کیونکہ ڈالر کی قیمت 270 روپے تک واپس آنے کا امکان ہے۔

ملک بوستان نے کہا کہ حالیہ دنوں میں ڈالر کی قدر میں اضافے کی ایک بڑی وجہ افغانستان اور ایران میں اسمگلنگ ہے، جہاں اسمگلرز کے ایجنٹس قانونی منی چینجرز سے زیادہ نرخ کی پیش کش کر کے مارکیٹ سے ڈالر خرید رہے ہیں اور اس وجہ سے لیگل منی چینجرز کے کاؤنٹرز پر ڈالر کی سپلائی کم ہوگئی ہے اور ڈالر گرے اور بلیک مارکیٹ میں فروخت ہو رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے حالیہ قانون کے تحت دو لاکھ روپے سے زائد کیش ٹرانزیکشن پر ٹیکس کے نفاذ کے بعد نان فائلرز بلیک مارکیٹ سے ڈالر خرید کر اپنی شناخت چھپا رہے ہیں، جس سے ڈالر کی طلب میں اضافہ ہوا۔

ملک بوستان نے بتایا کہ حکومت کو تجویز دی ہے کہ اسٹیٹ بینک کے سرکلر کے مطابق دو ہزار ڈالر تک کی کیش خریداری پر ٹیکس عائد نہ کیا جائے تاکہ عوام قانونی چینلز سے ڈالر خریدیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان تجاویز پر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوری کارروائی کی ہے اور ایف آئی اے نے کرنسی اسمگلرز کے خلاف چھاپے مارنا شروع کر دیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کارروائیوں کے مثبت اثرات آنا شروع ہو گئے ہیں اور آج اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت 60 پیسے کمی کے بعد 288 روپے پر آ گئی ہے جبکہ انٹر بینک میں ڈالر 285 روپے سے کم ہو کر 284 روپے 76 پیسے پر بند ہوا۔

ملک بوستان نے اُمید ظاہر کی کہ اگر ہنڈی حوالہ کے خلاف اسی طرح کریک ڈاؤن جاری رہا تو ڈالر کی قیمت 280، 270 اور حتیٰ کہ 250 روپے تک بھی گر سکتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک نے گزشتہ 9 ماہ کے دوران انٹر بینک سے 9 ارب ڈالر خرید کر اپنے ذخائر 20 ارب ڈالر تک پہنچا دیے ہیں اور اب انٹر بینک سے ڈالر خریدنا بند کر دیا ہے، جس کے بعد ڈالر کی قیمت میں مزید اضافہ نہیں ہوگا بلکہ کمی متوقع ہے۔

ملک بوستان نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں، ڈالر کی ذخیرہ اندوزی سے بچیں اور قانونی ذرائع سے لین دین کو ترجیح دیں کیونکہ روپیہ اس وقت انڈر ویلیو ہے اور ڈالر کی اصل ویلیو 250 روپے بنتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ملک بوستان نے ڈالر کی قیمت سے ڈالر

پڑھیں:

بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان

اسلام آباد:

وفاقی بجٹ میں 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے، تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم لانے کی تجاویز ہیں، بچوں کے فارمولا دودھ، گھی، کوکنگ آئل سمیت درجنوں اشیائے خورونوش سیلز ٹیکس کے تیسرے شیڈول میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق بجٹ میں سالانہ 20 کروڑ روپے سیل پر 25 ہزار روپے فکس ٹیکس دینا ہوگا جس پر تاجروں کو آڈٹ سے استثنیٰ دیا جاسکتا ہے، آئی ایم ایف نے جی ایس ٹی کی شرح 18 سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے پر زور دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اگلے مالی سال کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے لیے بجٹ میں اضافی ٹیکس اقدامات شامل ہوں گے، نئے بجٹ میں سپر ٹیکس میں ایک سے دو فیصد تک کمی کی بھی تجویز ہے۔

بجٹ میں شیر خوار بچوں کے فارمولا دودھ، کیچپ، ویجیٹیبل گھی، کوکنگ آئل، چائے کی پتی، چینی، خشک دودھ اور  اس سے تیار شدہ مصنوعات سمیت درجنوں اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء پر سیلز ٹیکس وصولی کے لیے پرچون قیمت پرنٹ کرنے کا لازمی قرار دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے لیے ان درجنوں اشیاء کو تیسرے شیڈول میں شامل کیا جائے گا۔

علاوہ ازیں جن اشیائے خوردونوش اور اشیائے ضروریہ پر بھاری ٹیکس عائد ہے اسے اگلے بجٹ میں بھی برقرار رکھے جانے کا امکان ہے جس سے ان اشیاء کے مہنگے ہونے کا خدشہ ہے۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبلڈ کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر پانچ روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

بجٹ میں کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے جس کیلئے ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔

دریں اثنا وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سونے کی قیمت میں پھر ہوشربا اضافہ
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • 5 جون تک پنجاب کے متعدد اضلاع میں آندھی، شدید ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری