کاش آج میں عمران خان سے مل سکتا اور ان کے گلے لگ کر اپنا دکھ کم کرسکتا، حماد اظہر
اشاعت کی تاریخ: 27th, July 2025 GMT
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 جولائی 2025ء ) پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء حماد اظہر نے اپنے والد سابق گورنر پنجاب اور پی ٹی آئی رکن قومی اسمبلی میاں محمد اظہر کے انتقال کے بعد اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ کاش آج میں عمران خان سے مل سکتا اور ان کے گلے لگ کر اپنا دکھ کم کرسکتا۔ اس حوالے سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کردہ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ دو درویش طبیعت افراد سے میں نے بہت کچھ سیکھا اور ان کی شفقت کے زیر سایہ رہا، ان میں ایک میرے والد اور دوسرے عمران خان ہیں، والد اللہ کو پیارے ہو گئے اور عمران خان دو سال سے ناحق جیل میں ہیں، کاش آج میں عمران خان سے مل سکتا اور ان کے گلے لگ کر اپنا دکھ کم کر سکتا۔
دو درویش تبعیت افراد سے میں نے بہت کچھ سیکھا اور ان کی شفقت کے زیر سایہ رہا۔ ایک میرے والد اور دوسرا عمران خان۔ والد اللہ کو پیارے ہو گئے اور خان صاحب دو سال سے ناحق جیل میں ہیں۔ کاش آج میں خان صاحب سے مل سکتا اور ان کے گلے لگ کر اپنا دکھ کم کر سکتا۔ pic.
(جاری ہے)
پی ٹی آئی رہنما حماد اظہر 2 سال روپوش رہنے کے بعد اپنے والد کی وفات پر سامنے آئے، انہوں نے کہا کہ اپنی اور اپنے خاندان کی طرف سے ان ہزاروں ساتھیوں کا شکر گزار ہوں جنہوں نے میرے والد کے جنازے میں اور قرآن خوانی میں شرکت کی اور ان لاکھوں افراد کا بھی شکریہ جنہوں نے افسوس کے پیغامات بھجوائے اور ان کی مغفرت کیلئے دعا کی، تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین جنہوں نے ان کی یاد میں بہترین الفاظ کہے میرے والد میاں اظہر مرحوم کیلئے دعا کی ہم ان کے بھی مشکور ہیں، میرے والد کی میراث شرافت، ایمانداری اور وضع داری ہے جو صرف میرے لیے ہی نہیں بلکہ پورے پاکستان کے سیاسی کلچر کیلئے ایک اثاثہ اور شاندار روایت ہے۔ حماد اظہر نے کہا کہ اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا، تین بہنوں کا واحد بھائی اور دو کم سن بچوں کا باپ ہوں، مجھ سے زیادہ تکلیف اور دکھ میرے گھر والوں نے دو سال سے زائد عرصہ تک برداشت کیے، ظاہر ہے میں اس دکھ کی گھڑی میں اپنے گھر والوں خصوصی طور پر اپنی والدہ کے ساتھ اب موجود رہنے کی خواہش رکھتا ہوں، میں بے گناہ ہوں اور جعلی پرچوں کا نشانہ ہوں جن کا کوئی سر پیر نہیں، اس سلسلے میں عدالت سے رجوع کروں گا اور انصاف طلب کروں گا، مل گیا تو اللہ کا شکر ادا کروں گا اور نہ ملا تو استقامت اور صبر سے مزید جبر برداشت کروں گا، بے شک اللہ صابرین کا ساتھ دینے والا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کاش آج میں میرے والد کروں گا
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔