اسلام آباد سے گدھے کا گوشت برآمد ہونے کے بعد شہریوں میں تشویش، پولیس کی تفتیش جاری
اشاعت کی تاریخ: 27th, July 2025 GMT
گزشتہ شب اسلام آباد کے علاقے ترنول میں گدھوں کے گوشت کی غیرقانونی فروخت کے انکشاف نے عوام کو شدید تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔ فوڈ اتھارٹی اور ضلعی انتظامیہ کی کارروائی میں ایک غیر ملکی باشندے کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ سینکڑوں کھالیں، درجنوں زندہ گدھے اور 25 من کے قریب گوشت برآمد کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں گدھے کے گوشت کا معاملہ: غیر ملکی شہری کے خلاف مقدمہ درج
ذرائع کے مطابق گرفتار غیر ملکی کا نام زونگ وی ہے، جو حال ہی میں 90 دن کے ویزے پر پاکستان آیا تھا۔ تفتیشی ٹیموں کو فارم ہاؤس سے کوئی قانونی دستاویز، اجازت نامہ یا گوشت کی ترسیل کا ریکارڈ نہیں ملا۔ پولیس کے مطابق موقع پر موجود پاکستانی افراد فرار ہوگئے تھے۔
رپورٹس کے مطابق گدھوں کو کاٹنے والی جگہ سے سینکڑوں کھالیں بھی برآمد ہوئیں، جنہیں پولیس ذرائع کے مطابق گوادر لے جا کر بیرونِ ملک ایکسپورٹ کیا جاتا تھا۔ شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ گوشت اسلام آباد کے مخصوص چائنیز ریسٹورنٹس یا بیرونِ ملک سپلائی ہو رہا تھا۔
مزید تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ پنجاب کے مختلف علاقوں سے شہری یہاں گدھے فروخت کرنے آتے تھے، جو کہ منظم سپلائی چین کی موجودگی کا ثبوت ہے۔ فارم ہاؤس کا مالک جیانگ لیانگ نامی شخص بتایا جا رہا ہے، جو اس وقت بیرون ملک مقیم ہے۔
ڈپٹی ڈائریکٹر اسلام آباد فوڈ اتھارٹی ڈاکٹر طاہرہ صدیق کے مطابق ابتدائی طور پر گوشت کی بیرونِ ملک منتقلی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، اور متعلقہ نیٹ ورک کے تمام کرداروں تک پہنچنے کے لیے تفتیش جاری ہے۔ غیر ملکی ملزم کو ٹرانسلیٹر کی سہولت دی گئی ہے، تاہم اب تک کی تفتیش میں کوئی خاطر خواہ معلومات حاصل نہیں ہو سکیں۔
اسلام آباد پولیس نے تھانہ سنگجانی میں مقدمہ درج کرتے ہوئے اسلام آباد فوڈ سیفٹی ایکٹ 2021 کی دفعات 11، 12، 13، اور 14 کے تحت کارروائی شروع کردی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں گدھے کا گوشت فروخت ہونے کا انکشاف، 25 من گوشت، 60 زندہ گدھے برآمد
واقعہ نے شہریوں میں تشویش کی شدید لہر دوڑا دی ہے اور عوامی سطح پر مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اس خطرناک نیٹ ورک کو مکمل بے نقاب کر کے سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اسلام اباد انکشاف ترنول تشویش کی لہر سلاٹر ہاؤس غیرملکی شہری گرفتار گدھے کا گوشت مقدمہ درج وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام اباد انکشاف ترنول تشویش کی لہر سلاٹر ہاؤس غیرملکی شہری گرفتار گدھے کا گوشت وی نیوز اسلام آباد جا رہا ہے غیر ملکی کے مطابق کیا جا
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ