عمران خان کی رہائی کا دور دور تک کوئی امکان نہیں اور نہ ہی اس کے بیٹے پاکستان آئیں گئے: ڈاکٹر انیس کنول
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
مدینہ منورہ۔( نمائندہ نوائے وقت) عمران خان کی رہائی کا دور دور تک کوئی امکان نہیں اور نہ ہی اس کے بیٹے قاسم اور سلیمان پاکستان آئیں گئے۔ عمران خان کی رہائی کی کنجی صرف میاں نواز شریف کے پاس ہے وہیں سے دروازہ کھل سکتا ہے۔ ان کی یاترہ کا دائرہ امریکہ تک محدود تھا، جمائما کو خوف ہے کہ بچوں کی پھوپھو علیمہ اور بشری بی بی کا گروپ پارٹی کو ہائی جیک کر چکا ہے۔عمران خان کو بطور قیدی تحریک انصاف کے وکلا ونگ سیاسی ٹول کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ عمران خان کے جرم ایسے گھناونے ہیں جن سے عمران خان رہائی کی بجائے قوم سے جدائی پر مینج ہوں گئے۔ ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر انیس کنول صدر مسلم لیگ ن سعودی عرب شعبہ خواتین نے کیا انہوں نے مزید کہا کہ 05 اگست کی تاریخ کے اعلان سے پہلے کئی یوتھی پنچھی ممبر قومی اسمبلی ہجرت کر جائیں گئے 09 مئی کے کیس میں عمران خان پر آرٹیکل 06 کا اطلاق ہوگا سب کچھ اسی کی مشاورت اور منشا اور ہدایات پر جنرل فیض حمید سے ملکر ہوا۔ بہکائے اور بلاوے میں آئے ہوئے یوتھی 2 سے 10 سال سزا بھگتیں گئے۔ اب انصاف قانوں کی حکمرانی ہوگی۔ موجودہ حکومتکی معیشت ، صنعت، تعلیم و صحت پہلی ترجیج ہے۔ خارجہ پالیسی اپنی بلندیوں پر ہے اور ملک کے شعبے ترقی پذیر ہے مہنگائی کو مزید کم کرنے پر حکومت متفق ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔