تیراہ واقعہ: خیبر پختونخوا حکومت کا لواحقین کیلئے ایک کروڑ روپے امداد کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
بیرسٹر سیف — فائل فوٹو
خیبر پختونخوا حکومت نے تیراہ واقعے پر متاثرہ خاندانوں سے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لواحقین کےلیے ایک کروڑ اور زخمیوں کےلیے 25 لاکھ روپے امداد کا اعلان کر دیا۔
انہوں نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور تیراہ واقعہ سے متعلق امور کی خود نگرانی کر رہے ہیں اور متعلقہ انتظامیہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ نے قبائلی عمائدین کا جرگہ طلب کیا ہے، جس میں ان کو سنا جائے گا۔
بیرسٹر سیف کا کہنا ہے کہ کے پی حکومت نے ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے گزشتہ ہفتے اے پی سی بلائی تھی لیکن گورنر اور اپوزیشن جماعتوں نے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرکے اے پی سی کا بائیکاٹ کیا۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کی شریک ہے، صوبائی حکومت دکھ کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کےشانہ بشانہ کھڑی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔