کرپٹوکرنسی ریگولیشن کا نظام بنایا ‘ مفتاھ اسماعیل کا بیانیہ بھارت جیسا : عطاتارڑ
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے+ اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ رجب طیب اردگان کے دور میں پاک ترک تعلقات کو ایک نئی جہت ملی، وہ مسلم امہ کے مضبوط رہنما ہیں۔ اسلام آباد میں ڈاکٹر فرقان حمید کی کتاب ’دی ٹائیگر آف اسلامک ورلڈ‘ کی تقریب رونمائی سے خطاب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ کتاب میں اسلامی تہذیب اور تمدن کو بہتر انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اردگان با اصول سیاستدان ہیں، ان کے دور میں پاک ترک دوطرفہ تعلقات کو نئی جہت ملی اور پاک ترک تعلقات مختلف شعبوں میں مضبوط ہوئے۔ ترک صدر نے اپنا معیار عوامی آدمی کے طور پر منوایا ہے۔ وہ ایک عوامی آدمی ہونے کے ساتھ ایک بہترین منتظم بھی ہیں۔ بطور میئر استنبول انہوں نے ایک بہترین وراثت چھوڑی۔ اردگان نے دوطرفہ دوستانہ تعلقات کو نئی بلندیوں پر پہنچایا اور پاک ترک عوام بھی باہمی تعلقات مضبوط کر رہے ہیں۔ غزہ اور فلسطین کے مسلمانوں کی آواز ہر فورم پر اٹھانے پر رجب طیب اردگان کو سلام پیش کرتے ہیں۔ مسلم ممالک کو کوئی بھی مسئلہ درپیش ہو تو رجب طیب اردگان نے سب سے پہلے آواز اٹھائی۔ شہباز شریف نے ہر فورم پر مسئلہ فلسطین کی بات کی ہے۔ میڈیا سے گفتگو میں عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ اسحاق ڈار کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لئے پاکستان سفارتی و قانونی مدد فراہم کر رہا ہے۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لئے جتنی کوششیں اس دور میں کی جا رہی ہیں شاید ہی کبھی ہوئی ہوں، اسحاق ڈار نے بھی وضاحت کر دی ہے۔ ان کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔ یہ مخالفین کی سازش تھی۔ اسحاق ڈار کے حوالے سے غلط خبر دی گئی کہ وہ شوگر ایڈوائزری بورڈ کے رکن ہیں۔ ریکارڈ چیک کر لینا چاہئے۔ سینٹ کے اندر ایک سوال کیا گیا جس کا جواب محکمہ نے تحریری طور پر جمع کرایا۔ جو بھی معاملات ہیں وہ تحریری طور پر فلور آف دی ہائوس پر موجود ہیں۔ پاکستان واحد ملک ہے جس میں کرپٹو کرنسی کی ریگولیشن کے حوالے سے نظام وضع کیا ہے۔ کرپٹو کونسل بنائی گئی۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ مفتاح کا بھی وہی بیانیہ ہے جو انڈیا کا کرپٹو کے بارے میں ہے۔ کرپٹو ایک ریگولیٹڈ انڈسٹری ہے، اس کے باقاعدہ قوانین بنائے گئے ہیں۔ کسی پر بلا وجہ الزام لگانا دشمن کا ایجنڈا ہے، پاکستان کا نہیں۔ پاکستان کی معیشت ترقی کر رہی ہے جو انہیں ہضم نہیں ہو رہی۔ کرپٹو کرنسی کی ریگولیشن کے حوالے سے نظام وضع کیا گیا ہے۔ کرپٹو کرنسی سے متعلق مفتاح اسماعیل کا بیانیہ زمینی حقائق کے برعکس ہے۔ کرپٹو کونسل بنائی گئی، قوانین بنائے گئے۔ کرپٹو کی پاکستان کے اندر گروتھ ہے۔ ماضی میں ہم نے دیکھا ہے کہ ہمارے دشمن نے کرپٹو سے متعلق اقدامات پر سوالات اٹھائے۔ مفتاح اسماعیل کا بھی وہی بیانیہ ہے جو انڈیا کا کرپٹو کے بارے میں ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ کرپٹو ایک ریگولیٹڈ انڈسٹری ہے، اس کے باقاعدہ قوانین بنائے گئے ہیں۔ ایک بڑھتا ہوا شعبہ ہے۔ اس کے متعلق بغیر تحقیق کے بات کرنا، کسی پر بلا وجہ الزام لگانا دشمن کا ایجنڈا ہے، پاکستان کا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت ترقی کر رہی ہے تو شاید انہیں ہضم نہیں ہو رہی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: نے کہا کہ پاک ترک کیا گیا
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔