مفتاح اسماعیل نے کرپٹو کرنسی پر بھارت کا بیانیہ اپنایا، عطا تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
اسلام آباد:
وفاقی وزیر اطلاعات عطاتارڑ نے کہا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے متعلق اسحاق ڈار کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا، عافیہ صدیقی کے معاملے میں حکومت سفارتی و قانونی مدد فراہم کر رہی ہے۔
اس معاملے پر وزیر قانون کی سربراہی میں کمیٹی بھی بنائی گئی ہے، اسحق ڈار شوگر ایڈوائزری بورڈ کے رکن نہیں،کرپٹو کرنسی کی ریگولیشن کے حوالے سے نظام وضع کیا گیا ہے۔
کرپٹو کرنسی سے متعلق مفتاح اسماعیل کا بیانیہ زمینی حقائق کے برعکس ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کرپٹو کی پاکستان کے اندر گروتھ ہے، ماضی میں ہمارے دشمن نے کرپٹو سے متعلق اقدامات پر سوالات اٹھائے۔
مفتاح اسماعیل کا بھی وہی بیانیہ ہے جو انڈیا کا کرپٹو کے بارے میں ہے۔ کرپٹو ایک ریگولیٹڈ انڈسٹری ہے، اس کے باقاعدہ قوانین بنائے گئے ہیں، ایک بڑھتا ہوا شعبہ ہے، اس کے متعلق بغیر تحقیق کے بات کرنا، کسی پر بلا وجہ الزام لگانا دشمن کا ایجنڈا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔