لگتا ہے کرپٹو پر مفتاح اسماعیل کا بھی وہی بیانیہ ہے جو بھارت کا ہے، عطا تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 28 جولائی2025ء)وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہاہے کہ کرپٹو کے حوالے سے مفتاح اسماعیل کا بھی وہی بیانیہ ہے جو بھارت کا ہے، کرپٹو سے متعلق بغیر تحقیق کے الزامات لگانا دشمن کا ایجنڈا ہے۔
(جاری ہے)
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ پاکستان کی معیشت ترقی کر رہی ہے شاید ان کو ہضم نہیں ہور ہا، پاکستان واحد ملک ہے جہاں کرپٹو کرنسی سے متعلق واضح میکانزم بنایا گیا ہے، کرپٹو کونسل بنائی گئی ہے، اس کے حوالے سے قوانین بنائے گئے ہیں، ہمارے دشمن نے اس حوالے سے سوالات اٹھائے ہیں۔
عطا تارڑ نے کہا کہ اسحاق ڈار سے متعلق غلط کہا گیا کہ وہ شوگر ایڈوائزری بورڈ کے ممبر ہیں، عافیہ صدیقی کی رہائی کیلئے جتنی کوشش کی گئی کسی دور حکومت میں نہیں ہوئی۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ حکومت عافیہ صدیقی کو سفارتی اور قانونی معاونت فراہم کر رہی ہے، عافیہ صدیقی سے متعلق اسحاق ڈار وضاحت دے چکے ہیں، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر بیان کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ رجب طیب اردوان کے دور میں پاک ترک تعلقات کو ایک نئی جہت ملی، وہ مسلم امہ کے مضبوط رہنماء ہیں۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے نے کہا کہ عطا تارڑ
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :