مجھ پر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے متعلق لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں: مفتاح اسماعیل
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
’جیو نیوز‘ گریب
سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ مجھ پر بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام سے متعلق لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے مجھ سے کچھ نہیں لیا گیا، 2019ء میں، میں جیل میں تھا جب بی آئی ایس پی کا پروگرام ہوا۔
مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ جس سال میں وزیر تھا اس پروگرام کے لیے 5 ارب نہیں 20 ارب روپے رکھے گئے تھے، میرے بعد اسحاق ڈار اور محمد اورنگزیب نے مسلسل پیسے بڑھائے۔
انہوں نے کہا کہ طارق فضل نے سینیٹ میں جو جواب دیا وہ جھوٹ پر مبنی تھا۔ طارق فضل چوہدری کو کہا ہے کہ وہ معافی مانگیں یا عدالت میں سامنا کریں۔
یہ بھی پڑھیے بینظیر نشونما پروگرام، مفتاح اسماعیل کی اختیارات کے ناجائز استعمال کی تردید مفتاح اسماعیل کا حکومت پر 17 ارب کے ڈاکے کا الزاممفتاح اسماعیل نے کہا کہ مجھ پر دو الزامات لگائے گئے، ایک بےنظیر انکم سپورٹ نشونما پروگرام سے متعلق ہے، فنانس منسٹری میں ہم بی آئی ایس پی کو پیسے دے دیتے ہیں جس کو استعمال وہ کرتے ہیں۔ الزام لگایا گیا کہ ورلڈ فوڈ پروگرام نے پیپرا رولز کی پیروی نہیں کی، وہ عالمی ادارہ ہے، عالمی قوانین کی پاسداری کرتا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ بجلی کی اوور بلنگ کی جا رہی ہے، یہ زیادتی ہے، کیا میں نے اوور بلنگ کی ہے؟ جس نے کی ہے اس کو پکڑیں، میں ان کے بارے میں سچ بولتا ہوں اس لیے یہ مجھ پر جھوٹے الزامات لگاتے ہیں۔ میں نے کوئی بات غلط نہیں کی، میں سچ بولتا رہوں گا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ خبر آئی کہ 244 ارب روپے کی حکومت نے اوور بلنگ کی ہے، آڈیٹر جنرل نے یہ رپورٹ بنائی ہے، اتنی گزارش ہے یا تو 244 ارب روپے کا کچھ کریں یا اس رپورٹ کا جواب دیں۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کہہ رہی ہے مفتاح اسماعیل گمراہ کر رہا ہے، جس نے اوور بلنگ کی ہے اسے پکڑو یا آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کا جواب دو۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: مفتاح اسماعیل اوور بلنگ کی انکم سپورٹ نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔