ذوالفقار بھٹو جونیئر کا لاڑکانہ سے الیکشن لڑنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
ویب ڈیسک: میر مرتضیٰ بھٹو کے صاحبزادے ذوالفقار علی بھٹو جونیئر نے اپنا پہلا الیکشن لاڑکانہ سے لڑنے کا اعلان کردیا۔
دادو میں گفتگو کرتے ہوئے ذوالفقار جونیئر نے کہا کہ کسی سے اتحاد کے بغیر عوام کی طاقت سے اقتدار میں آئیں گے، ہمیں نئی سوچ سے آگے بڑھنا چاہیے، سندھ کی زمینیں اور معدنی وسائل پر لوٹ مار اور قبضہ برداشت نہیں کرینگے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں امیروں کی طرح سیاست نہیں کرنی چاہیے، شہید مرتضیٰ بھٹو کا نظریہ بڑھانے کے لیے ہم نئی سوچ اور نظریے سے آرہے ہیں اور ہم عوام کی طاقت سے اقتدار میں آنا چاہتے ہیں۔
جنوبی ایشیائی ملک کا 40 ممالک کے لیے ویزا فیس ختم کرنے کا اعلان
اس موقع پر ذوالفقار جونیئر نے اپنا پہلا الیکشن لاڑکانہ سے لڑنے کا اعلان کیا تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ لاڑکانہ کی کس نشست سے الیکشن لڑیں گے۔
واضح رہے لاڑکانہ سے قومی اسمبلی کی 2 اور صوبائی اسمبلی کی 4 نشستیں ہیں جہاں سے 2024 کے عام انتخابات میں بلاول بھٹو بھی الیکشن لڑ کر منتخب ہوئے ہیں جب کہ ماضی میں محترمہ بے نظیر بھٹو اور ذوالفقار علی بھٹو بھی لاڑکانہ سے الیکشن لڑکر کامیابی حاصل کرچکے ہیں۔
2 کمپنیوں نے پاکستان سے گدھےکے گوشت کی برآمدکےلائسنس کیلئے درخواست دے دی
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: لاڑکانہ سے کا اعلان
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔