وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے وزیراعلیٰ ہاؤس کراچی میں منعقدہ تقریب میں ’ٹیچنگ لائسنس‘ کے اجرا کو سندھ کی تعلیمی تاریخ میں ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام نہ صرف تعلیمی نظام میں بہتری کا آغاز ہے بلکہ اساتذہ کے وقار، قابلیت اور جوابدہی کو یقینی بنانے کی جانب عملی پیشرفت بھی ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ سندھ کا تعلیمی مستقبل علم، اخلاق اور عمدگی پر استوار ہوگا۔ بغیر استاد کے کوئی تعلیمی اصلاح ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ معیاری تعلیم کا آغاز معیاری اساتذہ سے ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ سندھ حکومت نے اساتذہ کی لائسنسنگ کے نظام کو متعارف کرایا۔

مراد علی شاہ نے بتایا کہ 3 سال قبل سردار شاہ نے لائسنسنگ کا تصور پیش کیا تھا، جسے آج عملی جامہ پہنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیچنگ لائسنس پالیسی نہ صرف SDG-4 (پائیدار ترقیاتی ہدف) کے حصول کی سمت قدم ہے بلکہ اساتذہ کو لائسنس یافتہ پروفیشنلز کی طرح حیثیت دینے کا عمل ہے۔

مزید پڑھیں: سندھ کے 19 اضلاع میں ضمنی بلدیاتی انتخابات 9 ستمبر کو ہوں گے

وزیراعلیٰ نے انکشاف کیا کہ ابتدائی طور پر 4 ہزار امیدواروں نے ٹیچنگ لائسنس ٹیسٹ دیا، جن میں سے صرف 646 یعنی 16 فیصد کامیاب ہو سکے۔ یہ تو کچھ بھی نہیں، ہمیں بہت کام کرنا ہے تاکہ تعلیم کے معیار کو بہتر کرسکیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے لاکھوں بچے اسکولوں سے باہر ہیں، اور جو اسکول میں ہیں، انہیں معیاری تعلیم کی فراہمی کے لیے باصلاحیت اساتذہ کی اشد ضرورت ہے۔ ہمیں اسکولوں سے زیادہ باصلاحیت اساتذہ چاہئیں۔

مراد علی شاہ نے اعلان کیا کہ ٹیچنگ لائسنس سسٹم کو نجی اسکولوں اور اسپیشل ایجوکیشن اداروں تک بھی وسعت دی جائے گی۔ انہوں نے محکمہ تعلیم، سندھ ٹیچر ایجوکیشن ڈویلپمنٹ اتھارٹی (STEDA) اور تعلیمی شراکت دار اداروں جیسے آغا خان یونیورسٹی، ضیا الدین یونیورسٹی وغیرہ کا شکریہ ادا کیا۔

مزید پڑھیں: ملک کا روشن مستقبل نوجوانوں سے وابستہ ہے، گورنر سندھ کامران ٹیسوری

خطاب کے دوران وزیراعلیٰ نے کہا کہ سیاستدانوں کو لائسنس کی ضرورت نہیں پڑتی، لیکن سیاست کوئی پروفیشن نہیں، عوام کی مسلسل خدمت اصل امتحان ہے۔

وزیراعلیٰ نے اساتذہ سے کہا کہ وہ تعلیم کو صرف پیشہ نہ سمجھیں بلکہ اسے عبادت اور کردار سازی کا ذریعہ بنائیں۔ مجھے امید ہے کہ ہمارے اساتذہ ایسے شاگرد تیار کریں گے جو ان کا اور ملک کا نام روشن کریں گے۔ تقریب کے اختتام پر وزیراعلیٰ نے تمام کامیاب امیدواروں کو مبارکباد دی اور تعلیمی میدان میں مزید بہتری کے لیے عزم کا اظہار کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ٹیچنگ لائسنس سندھ سید مراد علی شاہ کراچی وزیراعلیٰ سندھ وزیراعلٰی ہاؤس.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ٹیچنگ لائسنس سید مراد علی شاہ کراچی وزیراعلی سندھ وزیراعل ی ہاؤس ٹیچنگ لائسنس مراد علی شاہ نے کہا کہ انہوں نے شاہ نے

پڑھیں:

ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت

اسلام آباد:

 قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔

ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔

اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔

سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔

چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔

سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔

اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔

متعلقہ مضامین

  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • ہمیں پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے ہیں، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس