پشاور ہائیکورٹ: سیاسی اور غیرقانونی احتجاجی مظاہروں کیخلاف درخواست دائر
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
---فائل فوٹو
پشاور ہائی کورٹ میں سیاسی اور غیرقانونی احتجاجی مظاہروں کے خلاف درخواست دائر کی گئی ہے۔
درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ سیاسی مظاہروں میں صوبے کے وسائل استعمال کیے جاتے ہیں، اسلام آباد کی جانب غیرقانونی لانگ مارچ اور سڑکوں کو بند کیا جاتا ہے، احتجاج کے لیے آئین و قانون میں طریقہ کار واضح ہے۔
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ اراکینِ اسمبلی کو غیرقانونی احتجاجی مظاہروں سے روکا جائے۔
پشاور ہائی کورٹ میں جمع کروائی گئی درخواست میں صوبائی اور وفاقی حکومت کو فریق بنایا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی، وفاقی آئینی عدالت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا.عدالت نے قرار دیا ہے کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31اے میں ابہام ہے۔
جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کر دیا. وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں کہا حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا۔
اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا،قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے،قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں۔
قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے،رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی،وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4% اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا.پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔