حکومت کا الیکٹرک بائیکس 2 سال کی اقساط پر دینے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
حکومت کا الیکٹرک بائیکس 2 سال کی اقساط پر دینے کا فیصلہ WhatsAppFacebookTwitter 0 29 July, 2025 سب نیوز
اسلام آباد:پیٹرول اور ڈیزل کے بجائے الیکٹرک گاڑیوں اور بائیکس کو فروغ دینے کے لیے وفاقی حکومت نے ایک لاکھ 16 ہزار الیکٹرک بائیکس 2 سالوں کی اقساط پر دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق الیکٹرک بائیکس کے لیے اقساط اور سبسڈی اسکیم تیاری کے آخری مراحل میں داخل ہوگئی، وزیر اعظم شہباز شریف یوم آزادی پر نئی ای وی پالیسی اسکیم کا اعلان بھی کریں گے۔
اسٹیٹ بینک اور بینک ایسوسی ایشن کی جانب سے اسکیم تیار کی جا رہی ہے، جس کے تحت فی الیکٹرک بائیکس اور رکشہ پر 50 ہزار کی سبسڈی دی جائے گی۔ اسکیم کے تحت اہلیت کے لیے عمر کی حد 18 سے 65 سال تک ہوگی۔
فی الیکٹرک بائیک کی قیمت 2 لاکھ 50 ہزار روپے تک مقرر ہونے کا تخمینہ ہے جبکہ 50 ہزار کی سبسڈی اور بقیہ 2 لاکھ سے زائد رقم اقساط میں ادا کرنا ہوں گی۔
ذرائع کے مطابق 17 کمپنیاں الیکٹرک بائیکس بنانے کے لیے لائسنس حصول میں کامیاب ہوئیں، پالیسی کے تحت 2030 تک 30 فیصد الیکٹرک وہیکلز کا ہدف مقرر ہے۔
ای وی پالیسی کی کامیابی کے لیے 5 سال میں 100 ارب کی سبسڈی دی جائے گی۔
رواں مالی سال کے لیے 9 ارب، 2027 کے لیے 19 ارب، سال 2028 میں 24 ارب سے زائد اور سال 2029 میں 26 ارب سے زائد سبسڈی مختص ہوگی۔ سال 2030 میں سبسڈی کی مد میں تقریباً 23 ارب مختص ہوں گے۔
سال 2030 تک 22 لاکھ 13 ہزار الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، پالیسی کے تحت سال 2040 تک 90 فیصد الیکٹرک گاڑیوں کے ہدف کا تخمینہ ہے۔ زیرو ایمشن وہیکل فلیٹ 100 فیصد تک مکمل حاصل کرنے کی مدت 2060 ہوگی۔
الیکٹرک وہیکل پالیسی کے فروغ سے درآمدی فیول کی لاگت میں کمی آئے گی جبکہ ماحول دوست الیکٹرک گاڑیوں سے ماحولیاتی آلودگی کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپنڈی میں خاتون کا قتل: لاش قبرستان پہنچانے والا رکشہ برآمد، ملزم نے پولیس کو کیا بتایا؟ پنڈی میں خاتون کا قتل: لاش قبرستان پہنچانے والا رکشہ برآمد، ملزم نے پولیس کو کیا بتایا؟ اسلام آباد میں گاڑیوں کو ڈیجیٹل کارڈز جاری کرنے کا فیصلہ اسلحہ شراب برآمدگی کیس: علی امین گنڈاپور کے وارنٹ گرفتاری منسوخ مودی حکومت کو ایک اور جھٹکا؛ ٹرمپ کا خالصتان تحریک کے رہنما کو خط چینی باہر بھیجنے میں کون سی شوگر ملز ملوث تھیں؟ فہرست سامنے آگئی بھارتی رکن پارلیمنٹ نے رافیل طیارہ گرنے کی تصدیق کر دیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: الیکٹرک گاڑیوں الیکٹرک بائیکس کا فیصلہ کے لیے کے تحت
پڑھیں:
میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
چین کی معروف الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکل ساز کمپنی ’بی وائی ڈی ‘ نے کہا ہے کہ سندھ کے علاقے غارو میں قائم کیا جانے والا اس کا 150 ملین ڈالر مالیت کا اسمبلنگ پلانٹ تکمیل کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
جبکہ کمپنی پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد مارکیٹ میں متعارف کرانے کے لیے کام تیز کر رہی ہے۔
کمپنی کے مطابق پلانٹ میں تعمیراتی کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے، جبکہ اس وقت جدید مشینری کی تنصیب، کمیشننگ اور دیگر تکنیکی مراحل جاری ہیں تاکہ عالمی معیار کے مطابق پیداوار کا آغاز کیا جا سکے۔
پلانٹ کی سالانہ پیداواری صلاحیت 25 ہزار گاڑیاں ہوگیبی وائی ڈی پاکستان، میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی ) کے وائس پریزیڈنٹ سیلز اینڈ اسٹریٹجی، دانش خالق نے بتایا کہ تقریباً 2 سال سے بھی کم عرصے میں تیار ہونے والا یہ منصوبہ پاکستان میں اپنی نوعیت کے تیز ترین آٹو مینوفیکچرنگ منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:چینی کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں تیار کرے گی، شارک 6 پلگ اِن ہائبرڈ پک اپ آج مارکیٹ میں آئے گی
انہوں نے کہا کہ پلانٹ مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد سالانہ تقریباً 25 ہزار نیو انرجی وہیکلز اسمبل کرنے کی صلاحیت رکھے گا، جس سے ملک میں ماحول دوست گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے میں مدد ملے گی۔
پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی جلد متعارف کرانے کا ہدفدانش خالق کے مطابق کمپنی کی اولین ترجیح پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد صارفین تک پہنچانا ہے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ باقاعدہ پیداوار شروع کرنے سے قبل مشینری کی جانچ، پیداواری آزمائش اور معیار کی تصدیق کے متعدد مراحل مکمل کیے جائیں گے تاکہ ہر گاڑی کمپنی کے عالمی معیار پر پوری اترے۔
2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی سب سے بڑی کھیپ پاکستان پہنچ گئیاس پیش رفت سے قبل بی وائی ڈی پاکستان نے گزشتہ ہفتے بحری جہاز کے ذریعے 2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی اب تک کی سب سے بڑی کھیپ درآمد کی۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اس درآمد کا مقصد صارفین کو بروقت گاڑیوں کی فراہمی یقینی بنانا اور ملک بھر میں موجود ڈیلر نیٹ ورک میں مطلوبہ تعداد میں گاڑیاں دستیاب رکھنا ہے۔
ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے الیکٹرک گاڑیوں کی طلب میں اضافہبی وائی ڈی کے مطابق پاکستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران نیو انرجی وہیکلز میں صارفین کی دلچسپی مسلسل بڑھی ہے، جبکہ حالیہ عرصے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔
مزید پڑھیں:چین کی سب سے بڑی کارساز کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں لانچ کرنے کے لیے پُرعزم
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کی جدید ٹیکنالوجی کی بدولت بی وائی ڈی گاڑیوں کے آپریٹنگ اخراجات روایتی پیٹرول یا ڈیزل گاڑیوں کے مقابلے میں 75 فیصد تک کم ہو سکتے ہیں، جبکہ حفاظت، کارکردگی اور قابلِ اعتماد معیار بھی برقرار رہتا ہے۔
چارجنگ انفراسٹرکچر میں بھی سرمایہ کاری جاریدانش خالق نے بتایا کہ بی وائی ڈی پاکستان نے ہبکو گرین پرائیویٹ لمیٹڈ (ایچ جی ایل) کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے ملک بھر میں نیو انرجی وہیکلز کے لیے چارجنگ نیٹ ورک کی توسیع کا کام بھی جاری رکھا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب تک کراچی سے پشاور تک تقریباً 1,300 کلومیٹر طویل روٹ پر 19 پبلک ڈی سی فاسٹ چارجنگ اسٹیشنز قائم کیے جا چکے ہیں، جبکہ آئندہ مرحلے میں مزید شہروں، اہم شاہراہوں اور دوسرے درجے کے شہری مراکز تک اس نیٹ ورک کو توسیع دی جائے گی۔
بی وائی ڈی نے 2024 میں مقامی شراکت دار میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی) کے ساتھ اشتراک کے ذریعے پاکستان کی مسافر گاڑیوں کی مارکیٹ میں باضابطہ طور پر قدم رکھا تھا۔
گزشتہ سال کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان میں اسمبل ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی جولائی یا اگست 2026 تک متعارف کرانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں 2030 تک فروخت ہونے والی 30 فیصد نئی گاڑیاں الیکٹرک ہوں گی
ماہرین کے مطابق پاکستان میں الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکلز کی مارکیٹ تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔
حکومت کی جانب سے ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی حوصلہ افزائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور چارجنگ انفراسٹرکچر میں بہتری ایسے عوامل ہیں جو اس شعبے میں سرمایہ کاری اور صارفین کی دلچسپی میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔
بی وائی ڈی کا غارو پلانٹ بھی اسی بدلتے ہوئے رجحان کا اہم حصہ تصور کیا جا رہا ہے، جس سے مقامی آٹو انڈسٹری، روزگار کے مواقع اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کو بھی فروغ ملنے کی توقع ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الیکٹر گاڑیوں الیکٹرک گاڑیاں ایندھن بی وائی ڈی پیداواری ٹیکنالوجی نیو انرجی وہیکلز