وفاقی کابینہ کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی
اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT
وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزیراعظم نے بھارتی پارلیمنٹ میں نریندر مودی کے خطاب اور اپوزیشن کے سوالات پر بھی گفتگو کی اور کہا کہ مودی حکومت کو اس کی اپنی اپوزیشن آڑے ہاتھوں لے رہی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو عالمی سطح پر پذیرائی، مودی کو سفارتی تنہائی ملی۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی۔ ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ٹرمپ کی بھارتی حکومت بارے 29 مرتبہ بیان دینے پر خصوصی گفتگو کی۔ وزیراعظم نے پنجابی میں کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ مودی دے سینے تے ٹھیک مونگ دل ریا اے، وزیراعظم شہباز شریف کے دلچسپ جملے پر کابینہ ارکان میں قہقہے بلند ہو گئے۔ شہباز شریف نے بھارتی پارلیمنٹ میں نریندر مودی کے خطاب اور اپوزیشن کے سوالات پر بھی گفتگو کی اور کہا کہ مودی حکومت کو اس کی اپنی اپوزیشن آڑے ہاتھوں لے رہی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو عالمی سطح پر پذیرائی، مودی کو سفارتی تنہائی ملی۔
شہباز شریف نے ملک بھر میں بارشوں اور سیلابی صورت پر امدادی سرگرمیاں مزید تیز کرنے کی ہدایت کی۔ ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کے اجلاس میں 7 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا، خلیجی ممالک کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے پر دستخط کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں نیشنل آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) پالیسی 2025ء کی منظوری دی گئی، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے انسداد منشیات انسپکٹر کی تقرری کا فیصلہ کیا گیا۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس میں حج پالیسی 2026ء کابینہ نے ترمیم کے ساتھ منظور کی، کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے نجکاری کے فیصلوں کی بھی توثیق کر دی۔ اجلاس کے دوران کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی کے 17 اور 25 جولائی کے فیصلوں کی بھی توثیق کر دی گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: وفاقی کابینہ کے اجلاس شہباز شریف اجلاس میں کہا کہ
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔