دنیا بھارت کو اب پاکستان کے برابر سمجھ رہی ہے، راہول گاندھی
اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT
نئی دہلی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 30 جولائی2025ء)عالمی سطح پر سفارتی تنہائی کا شکار بھارتی بیانیے کو دنیا نے مسترد کر دیا، مودی سرکار کو آپریشن بنیان مرصوص میں شکست کے بعد سفارتی سطح پر بھی منہ کی کھانی پڑی۔اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے لوک سبھا میں مودی سرکار کی ذلت آمیز ناکامیوں کا پردہ چاک کر دیا۔
(جاری ہے)
راہول گاندھی نے کہا کہ اگر دم ہے تو وزیراعظم مودی کہیں کہ ٹرمپ جھوٹ بول رہا ہے، بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر نے تقریر کے دوران نیو نارمل کا لفظ استعمال کیا، انہوں نے تقریر میں کہا کہ تمام ممالک نے دہشت گردی کی مذمت کی۔
اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی کا کہنا تھا کہ جے شنکر نے یہ نہیں بتایا کہ پہلگام کے بعد ایک بھی ملک نے پاکستان کا نام نہیں لیا، دنیا بھارت کو اب پاکستان کے برابر سمجھ رہی ہے۔مودی سرکار کے بیانیے کے خلاف امریکی صدر ٹرمپ کئی مرتبہ جنگ بندی میں کردار کا حوالہ دے چکے ہیں، دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے موثر اور حقیقت پسندانہ مقف کو عالمی سطح پر بھرپور پذیرائی ملی۔مودی سرکار کے مبہم، کمزور اور سیاسی مقف کو دنیا نے بے رحمی سے مسترد کر دیا، اس طرح مودی سرکار کا جھوٹ اب پوری طرح کھل کر سامنے آگیا۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے راہول گاندھی مودی سرکار
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔