سندھ کے ضلع ٹنڈو اللہ یار سے تیل و گیس کا ذخیرہ دریافت
اشاعت کی تاریخ: 1st, August 2025 GMT
حکام کے مطابق یہ دریافت نہ صرف ملکی توانائی کے شعبے کے لیے ایک اچھی خبر ہے بلکہ مقامی ترقی اور روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کرے گی۔ او جی ڈی سی ایل نے خط کے ذریعے تیل و گیس کی دریافت سے متعلق اسٹاک ایکسچینج کو آگاہ کردیا۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے ضلع ٹنڈو اللہ یار میں پاکستان کو تیل کے ذخائر کی تلاش میں بڑی کامیابی مل گئی، جس سے یومیہ 275 بیرل خام تیل حاصل ہونے کی توقع ہے، او جی ڈی سی نے اس اہم پیشرفت سے اسٹاک ایکسچینج کو خط بھیج کر آگاہ کردیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) کو سندھ کے ضلع ٹنڈو الہ یار میں واقع چاکرون آئل فیلڈ سے تیل کی ایک اور کامیاب دریافت ہوئی ہے۔ کمپنی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق نئی دریافت چاکرون فیلڈ میں کی گئی 1926 میٹر گہرائی کی کھدائی کے بعد ممکن ہوئی۔ اعلامیہ میں کہا گیا چاکرون آئل فیلڈ سے یومیہ 275 بیرل خام تیل حاصل ہونے کی توقع ہے، جو ملکی تیل کی پیداوار میں قابلِ ذکر اضافہ کرے گا۔
او جی ڈی سی ایل نے بتایا کہ چاکرون آئل فیلڈ میں یہ اس کی تیرہویں کامیاب دریافت ہے، جو کمپنی کی مسلسل کاوشوں اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کا نتیجہ ہے۔ کمپنی نے مزید بتایا کہ اس منصوبے میں او جی ڈی سی ایل کے 95 فیصد جبکہ گورنمنٹ ہولڈنگز لمیٹڈ کے 5 فیصد شیئرز ہیں۔ حکام کے مطابق یہ دریافت نہ صرف ملکی توانائی کے شعبے کے لیے ایک اچھی خبر ہے بلکہ مقامی ترقی اور روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کرے گی۔ او جی ڈی سی ایل نے خط کے ذریعے تیل و گیس کی دریافت سے متعلق اسٹاک ایکسچینج کو آگاہ کردیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: او جی ڈی سی ایل کے مطابق
پڑھیں:
عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟
وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔
سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔
مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟
رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔
سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔
سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔
مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ