عتیقہ اوڈھو کی شادی خطرے میں ، وجہ کیا؟
اشاعت کی تاریخ: 2nd, August 2025 GMT
کراچی(شوبز ڈیسک) پاکستان کی سینئر ٹیلی ویژن اداکارہ عتیقہ اوڈھو نے انکشاف کیا کہ ان کی شادی خطرے میں ہے۔
حال ہی میں عتیقہ اوڈھو نے اپنے شوہر ڈاکٹر سمر خان کے ساتھ اپنی ازدواجی زندگی کے بارے میں کھل کر بات کی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ شو کی میزبانی کی وجہ سے ان کی شادی خطرے میں پڑ گئی ہے۔
اس بارے میں گفتگو کرتے ہوئے عتیقہ اوڈھو نے کہا، میرا اپنے شوہر کے ساتھ رشتہ خطرے میں ہے۔ انہیں شکایت ہے کہ میرا سارا وقت ان ڈراموں میں ہی گزرتا ہے۔
عتیقہ اوڈھو نے مزید کہا کہ، ہم جو کام کر رہے ہیں، وہ پوری ایمانداری اور خلوص سے کرنا پڑتا ہے اور کرنا بھی چاہیےکیونکہ یہ اداکاروں کے کیریئر کا معاملہ ہے اس کے لیے مناسب تیاری کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کی وجہ سے ذاتی زندگی متاثر ہو رہی ہے۔ اب میں مسلسل ڈرامے دیکھتی ہوں، نوٹس لیتی ہوں اور اپنے شوہر کو وقت نہیں دے پاتی۔
انہوں نے ناظرین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، تم لوگوں کی وجہ سے میرے گھر کا ماحول خراب ہو رہا ہے۔
عتیقہ اوڈھو کا بچپن مشکلات سے دوچار تھا۔ وہ پانچ بہنوں میں سب سے بڑی ہیں،اور صرف آٹھ سال کی عمر میں ان کے والدین کی طلاق ہو گئی تھی اور انہوں نے دوسری شادی کر لی تھی ان کے والد سرطان کے باعث 43 سال کی کم عمر میں انتقال کر گئے۔
اس پس منظر نے ان کے فیملی اور تعلقات سے رویوں پر گہرا اثر چھوڑا، اور یوں انہوں نے چھوٹی عمر میں شادی کی تھی تاکہ ایک مضبوط خاندانی ڈھانچہ حاصل کریں۔ پہلی شادی 15 سال کی عمر میں ہوئی، دوسری شادی 21 اور تیسری شادی 2012 میں سیاست دان سمر علی خان سے ہوئی۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: انہوں نے
پڑھیں:
پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
لاہور : پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا۔رانا سکندر حیات نے ستمبر کے پہلے ہفتے سے انگلش اور کیمسٹری سمیت دیگر مضامین کی تدریس کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں ستمبر کے پہلے ہفتے سے کلاس کو پڑھاناشروع کروں گا، انگلش اور کیمسٹری میرے پسندیدہ مضمون ہیں لہٰذا ان ہی مضامین سے شروع کروں گا۔وزیر تعلیم نے کہنا ہےکہ پرائمری اسکولوں میں انگلش اور ہائی اسکولوں میں کیمسٹری سے آغاز کروں گا جب کہ انگلش اور کیمسٹری کے علاؤہ دیگرمضامین کی بھی تدریس کروں گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر ہفتے کسی ایک اسکول میں بغیر پیشگی اطلاع پڑھانے جاؤں گا، اساتذہ کی عزت کرتا ہوں، استاد بن کر فخر محسوس کروں گا۔ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے تعلیمی معیار کو جانچ کر تدریسی کمزوریاں دور کرنے میں مدد ملے گی۔