انڈین نیشنل کانگریس کی ایک سالانہ تقریب کے دوران کانگریس کے رہنما اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے خود کو ’ہیرو پرستی‘ اور شخصی سیاست سے الگ کرتے ہوئے واضح طور پر کہا کہ وہ ’راجا‘ کہلانا نہیں چاہتے۔

یہ بھی پڑھیے ٹرمپ کے ایک اشارے پر مودی نے سرینڈر کردیا، راہول گاندھی کے بھارتی وزیر اعظم کو طعنے

 یہ بات انہیں تب کہنا پڑی جب تقریب میں ان کی تقریر کے دوران کارکنان کی جانب سے نعرہ لگایا گیا
’دیش کا راجا کیسا ہو؟ راہل گاندھی جیسا ہو! ‘
راہل گاندھی نے فوری طور پر اس نعرے کو مسترد کرتے ہوئے کہا:

’میں راجا نہیں ہوں، راجا بننا بھی نہیں چاہتا۔ میں راجا کے نظریہ کے خلاف ہوں۔‘

انہوں نے کہا کہ وہ خود کو ایک عوامی نمائندہ سمجھتے ہیں، نہ کہ کوئی حکمران یا بادشاہ۔ ان کے مطابق، قیادت میں شخصی پرستی یا موروثی سوچ کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے مودی بھگوان کو بھی بتائیں گے کہ کائنات کیسے چلائی جاتی ہے، راہل گاندھی کا امریکا میں طنزیہ خطاب

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ راہل گاندھی کا یہ بیان، کہ وہ راجا یا نجات دہندہ نہیں بلکہ عوام کے نمائندہ ہیں، کانگریس میں قیادت کے انداز میں ایک نظریاتی تبدیلی کا اشارہ دیتا ہے۔
یہ موقف اس تاثر کے برخلاف ہے جو اکثر راہل گاندھی پر خاندانی سیاست سے وابستگی کے حوالے سے لگایا جاتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

انڈین نیشنل کانگریس بھارت راہل گاندھی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: انڈین نیشنل کانگریس بھارت راہل گاندھی راہل گاندھی

پڑھیں:

کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف

صدر مسلم لیگ (ن) نوازشریف(nawaz shrif) کا کہنا ہے کہ کسی پر تنقید کرکے،کسی کی برائی کرکے ووٹ نہیں مانگتا بلکہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔

گلگت میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ کسی پارٹی یا حکومت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، حکومت ملنے پر کیوں اس علاقے کو نظر انداز کیا گیا؟

کیوں اس علاقے پر توجہ نہیں دی گئی؟ جب وزیراعظم تھا تو کئی بار گلگت آیا اور اسکردو گیا تھا، کئی برسوں بعد آپ سے گفتگو کرکے بہت خوشی ہورہی ہے۔

نوازشریف نے کہا کہ وزیراعلیٰ اور وزیراعظم بننے سے بھی پہلے گلگت،اسکردو آیاتھا، گلگت، بلتستان، اسکردو سے مجھے دلی محبت ہے، جس گلگت کو میں جانتا تھا وہ گلگت کہاں ہے؟ میرا دل روتا ہے کہ آپ کا پیسہ آپ پر کیوں نہیں لگا یاگیا۔

صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ کسی ایک پارٹی نے یہاں منصوبے کی بنیاد نہیں رکھی، جومیرےزمانے میں ایئرپورٹ تھا، آج بھی وہی ہے، شہبازشریف سے کہوں گا اس ایئرپورٹ کو بڑا کریں، جیٹ طیارے لینڈ کرنے اور ٹیک آف کی گنجائش پیدا کریں گے۔

نوازشریف کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں لواری ٹنل 70سال سے مکمل نہیں ہورہی تھی، ہم نے اربوں روپےخرچ کرکے لواری ٹنل مکمل کی، یہاں منصوبہ شروع ہوتا ہے تو مکمل ہونے کا نام نہیں لیتا۔

گلگت بلتستان میں 10،10 اور12،12گھنٹےکی لوڈشیڈنگ منظور نہیں۔ ووٹ ملے نہ ملے، آپ کو ان چیزوں سے محروم نہیں کرسکتے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہماری حکومت آئی تو یہاں ہر دوسرے تیسرے ماہ آتارہوں گا، اپنی نگرانی میں منصوبے مکمل کراؤں گا، تمام اسٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر آپ کے حق میں فیصلہ کریں گے۔ تجارت بڑھنے پر گلگت بلتستان بہت خوشحال ہوجائے گا۔

مزید پڑھیں:پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم

نوازشریف نے کہا کہ مجھے کیوں نکالا؟ کیوں مجھے ملک چھوڑ کر جانا پڑا؟ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا۔ قصور آپ کا بھی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مودی کی شبیہ کو بچانے کیلئے سونے کے ذخائر فروخت کئے جارہے ہیں، ملکارجن کھڑگے
  • وسیم، مصباح اور فخرِ عالم نے حج کرکے بال کیوں نہیں منڈوائے؟
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • چلاس: پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کو دیامر میں روک لیا گیا
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ