پنجاب: صنعتوں کا زہریلا فضلہ نہروں اور نالوں میں پھینکنے پر پابندی عائد
اشاعت کی تاریخ: 3rd, August 2025 GMT
— فائل فوٹو
وزیراعلیٰ مریم نواز کی ہدایت پر پنجاب بھر میں صنعتوں سے نکلنے والے زہریلے کچرے اور مواد کو نہروں اور نالوں میں پھینکنے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
صوبہ بھر میں ہنگامی بنیادوں پر سروے کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ ہڈیارہ ڈرین کی صفائی کی ڈیڈ لائن 10 اگست مقرر کردی گئی ہے۔
پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب کی زیر صدارت اجلاس میں انڈسٹریل یونٹس اور ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے خلاف فوری کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔
پنجاب میں ڈرینز میں زہریلے پانی اور کیمیکل کے اخراج کی روک تھام کیلئے آپریشن کی منظوری دے دی گئی۔
اجلاس میں ویسٹ ٹریٹمنٹ پلانٹ لگانے کے لیے صنعتوں کو بلا سود قرضے دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
مریم اورنگزیب نے ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ 10 اگست کے بعد خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فیصلہ کُن کارروائی کا آغاز کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔