بھارت روسی تیل خرید کر یوکرین جنگ میں مالی معاونت کررہا ہے، ٹرمپ کے مشیر کا الزام
اشاعت کی تاریخ: 3rd, August 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی مشیر اور وائٹ ہاؤس کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف اسٹیفن ملر نے بھارت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ روس سے تیل خرید کر یوکرین کے خلاف جاری جنگ میں بالواسطہ طور پر مالی مدد فراہم کررہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: روس سے تیل کی خریداری امریکا اور بھارت کے تعلقات میں ’چبھتا ہوا نکتہ‘ بن چکا، مارکو روبیو
بین الاقوامی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسٹیفن ملر نے ایک انٹرویو میں کہاکہ صدر ٹرمپ کا مؤقف بالکل واضح ہے، بھارت کی جانب سے روسی تیل کی خریداری ناقابل قبول ہے، کیونکہ اس سے جنگ کو طول دینے میں مدد مل رہی ہے۔
اسٹیفن ملر کی یہ تنقید بھارت جیسے اہم امریکی اتحادی پر اب تک کی سخت ترین تنقید قرار دی جا رہی ہے۔ فاکس نیوز کے پروگرام سنڈے مارننگ فیوچرز میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہاکہ زیادہ تر لوگ یہ جان کر حیرت زدہ ہوں گے کہ روسی تیل کی خریداری میں بھارت، چین کے تقریباً برابر ہے، جو کہ انتہائی حیران کن حقیقت ہے۔
خبررساں ادارے کے مطابق واشنگٹن میں بھارتی سفارت خانے نے فوری طور پر اس بیان پر کوئی ردِعمل نہیں دیا۔ تاہم بھارتی حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت امریکی دباؤ کے باوجود روسی تیل کی خریداری جاری رکھے گا۔
رپورٹ کے مطابق امریکا نے روس سے توانائی اور فوجی ساز و سامان کی خریداری پر بھارت کو سخت پیغام دیتے ہوئے جمعے کے روز بھارتی مصنوعات پر 25 فیصد درآمدی ٹیکس نافذ کردیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا نے پاکستان پر 19 فیصد ٹیرف عائد کر دیا، بھارت کو سختی کا سامنا
صدر ٹرمپ نے مزید انتباہ دیا ہے کہ اگر روس نے یوکرین کے ساتھ امن معاہدہ نہ کیا تو روسی تیل خریدنے والے ممالک سے امریکا اپنی درآمدات پر 100 فیصد تک ٹیکس عائد کرسکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اسٹیفن ملر امریکا بھارت آمنے سامنے امریکی ٹیرف امریکی صدر تیل خریداری ٹرمپ مشیر ڈونلڈ ٹرمپ روسی تیل مودی سرکار وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسٹیفن ملر امریکا بھارت ا منے سامنے امریکی ٹیرف امریکی صدر تیل خریداری ڈونلڈ ٹرمپ روسی تیل مودی سرکار وی نیوز تیل کی خریداری اسٹیفن ملر روسی تیل
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔