امریکی دھمکیوں کے باوجود بھارت روس سے تیل کی خریداری جاری رکھے گا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, August 2025 GMT
نئی دہلی: امریکی دباؤ اور صدر ٹرمپ کی جانب سے دی گئی دھمکیوں کے باوجود بھارت نے روس سے تیل خریدنے کی پالیسی تبدیل نہیں کی۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی حکومت نے کسی بھی آئل کمپنی کو روسی خام تیل خریدنے سے روکنے کی ہدایات جاری نہیں کیں۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ بھارت اور روس کے درمیان تیل کے طویل المدتی معاہدے موجود ہیں، جنہیں فوری طور پر ختم کرنا ممکن نہیں۔ تاہم یہ بھی کہا گیا ہے کہ بھارت کی چار سرکاری آئل ریفائنریز نے اس بار روسی خام تیل میں دلچسپی ظاہر نہیں کی۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 14 جولائی کو اعلان کیا تھا کہ روس سے تیل خریدنے والے ممالک پر 100 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔
امریکہ نے بھارت پر 25 فیصد ٹیرف بھی لگا دیا ہے، جس کے بعد بھارت نے امریکا سے ففتھ جنریشن ایف 35 اسٹیلتھ فائٹر جیٹ خریدنے میں عدم دلچسپی ظاہر کر دی ہے۔
بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت اپنی توانائی ضروریات اور خارجہ پالیسی کو امریکی دباؤ کے تحت نہیں چلائے گا اور روس کے ساتھ اپنے تعلقات برقرار رکھے گا۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔