وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی نے حج 2026 کے لیے درخواستوں کی وصولی کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ وزارت کے ترجمان محمد عمر بٹ کے مطابق، درخواست دہندگان آج سے نامزد بینکوں اور سرکاری آن لائن پورٹل کے ذریعے اپنی درخواستیں جمع کروا سکتے ہیں۔

ترجمان کے مطابق، رجسٹرڈ افراد کے لیے درخواستوں کی جانچ اور ابتدائی قسط جمع کرانے کا عمل ’پہلے آئیے، پہلے پائیے‘ کی بنیاد پر ہوگا، اور یہ مرحلہ 4 اگست سے 9 اگست تک جاری رہے گا۔

محمد عمر نے بتایا کہ نشستیں باقی ہونے کی صورت میں نئے درخواست گزار 11 اگست سے 16 اگست تک درخواست دے سکیں گے۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ جیسے ہی تمام نشستیں مکمل ہو گئیں، مزید درخواستوں اور رقوم کی وصولی کا عمل روک دیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: حج 2026 :غیر رجسٹرڈ افراد بھی درخواست دے سکیں گے

وزارت کے مطابق، حج 2026 کے لیے متوقع پیکیج 11.

5 سے 12.5 لاکھ روپے کے درمیان ہوگا، جس میں قربانی کی رقم بھی شامل ہے۔ دوسری قسط یکم نومبر 2025 سے وصول کی جائے گی۔

ترجمان نے ایک اہم پالیسی تبدیلی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سال عمر کی بالائی حد اور ایک سے زائد مرتبہ حج پر جانے کی پابندی ختم کردی گئی ہے، تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد کو حج کا موقع مل سکے۔ تاہم، انہوں نے یہ وضاحت بھی کی کہ یکم مارچ 2014 کے بعد پیدا ہونے والے بچے حج کے لیے اہل نہیں ہوں گے۔

محمد عمر بٹ نے تمام خواہشمند افراد پر زور دیا کہ وہ بروقت درخواستیں جمع کروا کر اپنے لیے نشستیں محفوظ کریں، تاکہ حج 2026 کی سعادت حاصل کی جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

حج 2026 محمد عمر بٹ وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے

پڑھیں:

اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار

مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • معاون خصوصی / وزیر مملکت نے اپنی وزارت میں پندرہ لاکھ کے مساج کا بل جمع کروادیا
  • میسی اور رونالڈو کے ممکنہ آخری عالمی امتحان سمیت ورلڈ کپ 2026 کا عظیم آغاز قریب
  • صرف مسلم لیگ (ن) ہی گلگت بلتستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے، ثروت صباء
  • فیفا ورلڈ کپ 2026 نے تاریخ کے سب سے بڑے فٹبال ایونٹ کا اعزاز حاصل کر لیا
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی