بنگلہ دیش میں پاکستانی پرچموں کی فروخت میں اضافہ، خوبصورت ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 5th, August 2025 GMT
بنگلہ دیش میں یومِ آزادی پاکستان کے موقع پر پاکستانی پرچموں کی طلب میں بے حد اضافہ ہوا ہے۔ 14 اگست کے قریب آتے ہی مقامی بازاروں اور آن لائن سٹورز پر سبز ہلالی پرچموں کی خرید و فروخت میں بے حد تیزی آئی ہے۔ اس دوران پاکستانی پرچموں کی مانگ نے نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے، جس سے سوشل میڈیا پر بھی خاصی بحث چھڑ گئی ہے۔
Finally! After decades!
Bangladesh gets ready to celebrate August 14th ???????????????? pic.
— AM Raad (@Raad_Pak) August 4, 2025
اشفاق حسن لکھتے ہیں کہ ڈھاکہ بنگلہ دیش میں 14 اگست کی مناسبت سے پاکستانی پرچموں کی مانگ سے ہندوستان میں صفِ ماتم بچھ گئی ہے ساتھ ہی انہوں نے کہا ہم ایک ہیں۔
ڈھاکہ بنگلہ دیش میں 14 اگست کی مناسبت سے پاکستانی پرچموں کی مانگ- ہندوستان میں صفِ ماتم بچھ گئی
ھم ایک ھیں۔#pakistanBungladesh pic.twitter.com/VIB3bz1QTt
— Ashfaq Hassan (@BrigAshfaqHasan) August 4, 2025
سعدیہ خالد نے لکھا بھارت ہار گیا، پچاس سال میں پہلی بار بنگلہ دیش میں پاکستان کا یوم آزادی پوری دھوم دھام سے منایا جائے گا۔ بنگلہ دیشی بازاروں میں پاکستانی جھنڈوں کا کاروبار اس وقت عروج پر ہے۔
بھارت ہار گیا ، مکتی باہنی ہار گئی!
پچاس سال میں پہلی بار بنگلہ دیش میں پاکستان کا یوم آزادی پوری دھوم دھام سے منایا جائے گا ۔بنگلہ دیشی بازاروں میں پاکستانی جھنڈے جھنڈیوں کا کاروبار عروج پر❤️ pic.twitter.com/YdMD3xHBqi
— Sadia Khalid (@SadiasOfficial) August 4, 2025
ایک صارف نے لکھا کہ بنگلہ دیش میں 14 اگست کے حوالے سے پاکستانی پرچم فروخت ہو رہے ہیں، یہ بڑی تبدیلی ہے۔ بنگالی اپنے اصل کی طرف لوٹ رہے ہیں، بیشک دو الگ الگ ملک ہیں مگر ایک قوم ہیں۔
بنگلہ دیش میں 14 آگست کے حوالے سے پاکستانی پرچم فروخت ہو رہے ہیں, یہ بڑی تبدیلی ہے بنگالی اپنے اصل کی طرف لوٹ رہے ہیں, بیشک دو الگ الگ ملک ہیں مگر ایک قوم ہیں..
????????❤️???????? pic.twitter.com/XVYr0hm0hc
— Ather Salem® (@AthSa01) August 4, 2025
ایک صارف نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ یہ پاکستان نہیں بلکہ ڈھاکا ہے جہاں یوم پاکستان 14 اگست کے لئے پاکستانی پرچم بیچے جا رہے ہیں۔ وقت نے ثابت کیا ہے کہ دو بچھڑے بھائیوں کو وقتی طور پہ تو ایک دوسرے کے خلاف کیا جا سکتا ہے لیکن وہ زیادہ دیر ایک دوسرے سے دور نہیں رہ سکتے۔ 71 میں دو قومی نظریے کو دفن کرنے والی اندرا گاندھی آج دیکھ رہی ہو گی کہ دو قومی نظریہ اپنی پوری طاقت کے ساتھ واپس آ چکا ہے۔ اور اسے ختم کرنے کے دعوی دار آج خود قصہ پارینہ بن چکے ہیں۔
یہ پاکستان ہے۔
لیکن ٹھہرئے نہیں یہ پاکستان نہیں بلکہ یہ تو ڈھاکہ ہے۔ جہاں یوم پاکستان 14 اگست کے لئے پاکستانی پرچم بیچے جا رہے ہیں۔ وقت نے ثابت کیا ہے کہ دو بچھڑے بھائیوں کو وقتی طور پہ تو ایک دوسرے کے خلاف کیا جا سکتا ہے لیکن وہ زیادہ دیر ایک دوسرے سے دور نہیں رہ سکتے۔ 71 میں… pic.twitter.com/5l34xmyETl
— Barrister Usman Cheema (@barristerCheema) August 4, 2025
ایک صارف کا کہنا تھا کہ پہلے پاکستانی پرچم ایران میں لہرائے، اب قومی پرچم بنگلہ دیش میں رنگ بکھیر رہے ہیں۔ بھارت کو جلن تو ہورہی ہوگی، حسینہ واجد کا دور ختم شد۔ پاکستان سے محبت کا دور شروع۔
پہلے پاکستانی پرچم ایران میں لہرائے،
اب قومی پرچم بنگلہ دیش میں رنگ بکھیر رہے ہیں۔ 14 اگست "پاکستان جشن آزادی کی تیاریاں بنگلہ دیش میں بھی جاری"
بھارت کو جلن تو ہورہی ہوگی، حسینہ واجد کا دور ختم شد۔ پاکستان سے محبت کا دور شروع۔????????#LoveIsland #INDvsENG pic.twitter.com/w9CrGuMpmf
— zeeshan (@zeeshan60430926) August 5, 2025
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
14 اگست بنگلہ دیش پاکستان یوم آزادی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: 14 اگست بنگلہ دیش پاکستان یوم ا زادی پاکستانی پرچموں کی سے پاکستانی پرچم بنگلہ دیش میں 14 میں پاکستان ایک دوسرے رہے ہیں اگست کے کا دور
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔