دبئی کے معاشی مرکز میں پاکستان کو مفت زمین، پاکستانی مصنوعات پر ڈیوٹی بھی معاف
اشاعت کی تاریخ: 5th, August 2025 GMT
دبئی کے معاشی مرکز میں پاکستان کو مفت زمین، پاکستانی مصنوعات پر ڈیوٹی بھی معاف WhatsAppFacebookTwitter 0 5 August, 2025 سب نیوز
اسلام آباد: ڈی پی ورلڈ کے ہیڈ آف ٹریڈرز مارکیٹ عبداللہ یعقوب، وائس چیئرمین فخر عالم اور این ایل سی کے ڈائریکٹر پلانز برگیڈیئر محمد یوسف نے ایف پی سی سی آئی کے کیپٹل آفس کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ سے ملاقات کی۔ ملاقات میں دبئی میں قائم کیے جانے والے مشترکہ منصوبے “پاکستان مارٹ” سمیت مختلف شعبوں میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عبداللہ یعقوب السید احمد الہاشمی نے کہا کہ پاکستان مارٹ ایک اہم مشترکہ منصوبہ ہے جس پر ہم نہایت پُرجوش ہیں۔ دبئی جیسے عالمی معاشی مرکز میں پاکستان مارٹ جیسے ادارے کا کردار انتہائی اہم ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان مارٹ میں صرف پاکستانی مصنوعات فروخت کی جائیں گی، جو پاکستان کی بیرون ملک ایک مثبت پہچان ثابت ہو گی۔ یہ صرف ایک کاروباری منصوبہ نہیں بلکہ پاکستان کے تشخص کو اجاگر کرنے کا ذریعہ بھی ہو گا۔
وائس چیئرمین ڈی پی ورلڈ فخر عالم نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ ملکی معیشت کی ترقی میں بزنس کمیونٹی کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ دبئی میں اس خطے میں چین کا ڈریگن مارٹ پہلے سے موجود ہے جبکہ بھارت بھی 180 ملین ڈالر کی لاگت سے اپنا مارٹ قائم کر رہا ہے۔ تاہم ہم یہ زمین حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دبئی کے پرنس نے پاکستان مارٹ کے قیام کے لیے ملینز آف ڈالرز مالیت کی زمین بغیر کسی قیمت کے فراہم کی ہے۔ پاکستانی مصنوعات پر وہاں 5 فیصد ڈیوٹی بھی لاگو نہیں ہو گی، اور مارٹ کے سامنے وئیر ہاؤس بھی تعمیر کیا جائے گا۔
فخر عالم نے بتایا کہ ڈی پی ورلڈ اس وقت دنیا بھر میں 96 پورٹس پر آپریٹ کر رہی ہے اور اس کے ورکرز کی تعداد ایک لاکھ 80 ہزار سے زائد ہے۔
صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ ڈی پی ورلڈ اور این ایل سی کا باہمی تعاون خطے میں تجارت کی نئی راہیں کھولے گا۔ چائنہ کے ڈریگن مارٹ نے چین اور دبئی کی معیشت کو قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا، امید ہے کہ پاکستان مارٹ بھی ایسا ہی رول ماڈل پراجیکٹ ثابت ہو گا۔
انہوں نےکہا کہ پاکستان مارٹ متحدہ عرب امارات کو پاکستانی برآمدات کے 2 ارب ڈالر کے ہدف کے حصول میں مدد فراہم کرے گا۔ پاکستان کے اعلیٰ معیار کے چاول اور دیگر مصنوعات دبئی کی مارکیٹ میں اپنی جگہ بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔
صدر ایف پی سی سی آئی نے یقین دہانی کروائی کہ “ایف پی سی سی آئی اور پاکستان کی بزنس کمیونٹی اس منصوبے کی کامیابی کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔
ڈائریکٹر پلانز این ایل سی برگیڈیئر محمد یوسف نے کہا کہ این ایل سی اور ڈی پی ورلڈ کی شراکت داری سے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے میں تجارت کے لیے نئی راہیں کھلیں گی۔
یہ دورہ پاکستان مارٹ کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے حکومتی و نجی شعبوں کے درمیان بڑھتے ہوئے باہمی اعتماد اور تعاون کی عکاسی کرتا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاک چین دوستی افلاک سے بھی وسیع اور بلند ہو چکی ہے ، وفاقی وزیر احسن اقبال فرانسیسی دوست کی جانب سے عطیہ کردہ جاپان مخالف جنگ کی تاریخی تصاویر کی حوالگی کی تقریب کا انعقاد لائی چھنگ ڈے کی انتظامیہ پر عوامی اعتماد کی شرح میں شدید کمی ، تائیوان کے تازہ ترین سروے پر سی ایم جی کا... چین، شی زانگ نے گزشتہ 60 سالوں میں معاشی و سماجی ترقی میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج پھر زبردست تیزی؛ انڈیکس کا نیا ریکارڈ قائم چین میں نیو انرجی گاڑیوں کی مارکیٹ میں موجودگی کی شرح 44.3 فیصد تک پہنچ گئی چین مسلسل 12 سال سے دنیا کی سب سے بڑی صنعتی روبوٹ مارکیٹ برقرار رکھے ہوئے ہے، چینی میڈیا
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پاکستانی مصنوعات
پڑھیں:
کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے آئندہ مالی سال کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی۔
نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق پائیڈ نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شواہد پر مبنی فریم ورک رپورٹ تیار کرلی، کم از کم اجرت 40 ہزار سے بڑھا کر 45 ہزار روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے، اس طرح تنخواہوں میں 12.5 فیصد اضافہ ممکن ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق کم از کم ماہانہ تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے سے کم آمدنی والے طبقے کی قوتِ خرید بہتر ہوگی اور انہیں مہنگائی کے اثرات سے تحفظ مل سکے گا۔ پائیڈ کا کہنا ہے کہ اجرتی پالیسی کا اثر غربت، روزگار، گھریلو طلب اور مقامی معیشت پر براہِ راست پڑتا ہے، اس لیے کم از کم اجرت کا معاملہ اب صرف لیبر ڈیپارٹمنٹ تک محدود نہیں رہا۔
اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی تا اپریل مالی سال 2025-26 کے دوران اوسط افراطِ زر 6.19 فیصد رہی، جبکہ اپریل 2026 میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 10.9 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
پائیڈ نے زور دیا ہے کہ اجرتوں کو مہنگائی اور موجودہ معاشی حقائق کے مطابق بنایا جائے تاکہ سماجی استحکام، غربت میں کمی اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کو یقینی بنایا جا سکے۔