پھوپھیوں اور بیگم کے بعد بچے بھی آ جائیں تو کیا کر لیں گے، طلال چوہدری
اشاعت کی تاریخ: 5th, August 2025 GMT
اسلام آباد:
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے پی ٹی آئی کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کی رہائی کے لیے پھوپھیوں اور بیگم کے بعد بچے بھی آ جائیں تو کیا کر لیں گے۔
قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر مملکت نے کہا کہ احتجاج 100 بار کریں ہم گرفتار نہیں کریں گے لیکن سوال یہ ہے کہ آپ کیوں نہیں انتظامیہ کو آگاہ کرتے؟ میڈیا سے خبر ملتی ہے، یہ انتظامیہ کو آن بورڈ کیوں نہیں لیتے۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہاں سے جتھوں کو لے جا کر اڈیالہ جیل پر حملہ کرنے کی اجازت ہم نہیں دیں گے۔
وزیر مملکت نے کہا کہ بچوں کو استعمال کیا گیا، بچے والد سے ملنا چاہتے تو کیا دو سال میں ویزا نہ ملتا؟ ہمدردی کے لیے بچوں والا سیاسی اسٹنٹ تھا، بچے کیا بانی پی ٹی آئی کے بچے بن کے آرہے ہیں یا گولڈ اسمتھ کے پوتے بن کر آرہے ہیں۔
طلال چوہدری نے کہا کہ احتجاج حق ہے لیکن یہ نہیں کہ آپ آئین و قانون سے ماورا احتجاج کر سکتے ہیں۔
وزیر مملکت نے کہا کہ آج سے تین دن پہلے ڈاک سے ڈی سی آفس کو درخواست موصول ہوئی، کبھی کہتے ہیں اسلام آباد آئیں گے اور کبھی کہتے اپنے اپنے شہروں میں کریں گے، احتجاج انہوں نے کرنا نہیں بس کسی خاص دن پر احتجاج کی کال دے دیتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وزیر مملکت نے کہا کہ
پڑھیں:
سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر ظفر اللہ جبکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل، ایف آئی اے اور امیگریشن حکام بھی عدالت پیش ہوئے۔ عدالتی ہدایت پر بیرسٹر ظفر اللہ نے کوئٹہ پولیس کا خط پڑھا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ متعلقہ پولیس کہہ رہی ہے بندہ نہیں چاہیے، ایف آئی اے کو بھی مطلوب نہیں، جن کو چاہیے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہیے، پھر ابھی تک نام کیوں نہیں نکالا؟
ایف آئی اے حکام نے جواب دیا کہ ای سی ایل میں نام نہیں ہے، صرف پی این آئی لسٹ میں نام ہے جو 28 مارچ کو ڈالا گیا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ اس لسٹ میں نام کتنے دن کے لیے ہوتا ہے اور کب مکمل ہوئی؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ ایک ماہ کے لیے ہوتا ہے اور پھر ایک ماہ کی توسیع لینا ہوتی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ زیادہ سے زیادہ 60 روز رکھ سکتے ہیں تو اب جولائی ہے، کتنے ماہ ہوگئے ہیں؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ 5 ماہ ہوگئے، ابھی تک ہمیں آفیشلی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
عدالت نے ایف آئی اے افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اتنے وقت کیسے آپ رکھ سکتے ہیں، کس قانون کے تحت ابھی تک رکھا ہوا ہے۔ جسٹس راجہ انعام امین نے ریمارکس دیے کہ ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آرہے ہیں، کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے۔
عدالت نے سردار یار محمد رند کی سفری پابندی لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔