الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کے لیے اربوں روپے کی سبسڈی منظور
اشاعت کی تاریخ: 5th, August 2025 GMT
اسلام آباد میں اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا اجلاس وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ہوا جس میں ملک میں الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کے لیے بڑے پیمانے پر مالی اقدامات کی منظوری دی گئی۔
یہ اقدام ماحولیاتی آلودگی کم کرنے اور ایندھن کے درآمدی بوجھ کو کم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
اجلاس میں قائداعظم یونیورسٹی کو مالیاتی طور پر مستحکم بنانے کے لیے 2 ارب روپے کے بیل آؤٹ پیکج کی اصولی منظوری دی گئی ہے۔
ٹیلی گرافک ٹرانسفر کے لیے 30 ارب روپے کی سبسڈی
ترسیلات زر کی حوصلہ افزائی کے لیے ٹیلی گرافک ٹرانسفر اسکیم کی مد میں 30 ارب روپے کی سبسڈی کی منظوری بھی دی گئی۔
پنجاب حکومت کی انقلابی اسکیم: الیکٹرک بائیک پر 1 لاکھ روپے نقد انعام
پنجاب حکومت نے ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے اور گرین ہاؤس گیسوں میں کمی کے لیے نئی اسکیم متعارف کرائی ہے
جو شہری اپنی پیٹرول سے چلنے والی بائیک کو الیکٹرک بائیک سے تبدیل کریں گے، انہیں 1 لاکھ روپے نقد انعام دیا جائے گا۔
یہ اعلان سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے لاہور میں ایک تقریب کے دوران کیا۔
شجرکاری کرنے والوں کے لیے مالی انعامات
تقریب میں مریم اورنگزیب نے اعلان کیا کہ شجرکاری کرنے والے شہریوں کو گرین کارڈ پروگرام کے تحت مالی انعامات دیے جائیں گے۔ شہری حکومت کی سرکاری ویب سائٹ [https://greencredit.
یومِ آزادی کے موقع پر، وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے “الیکٹرک بائیک اسکیم کے باقاعدہ آغاز کا اعلان متوقع ہے۔ یہ اسکیم ملک کے ٹرانسپورٹیشن نظام میں انقلابی تبدیلی لانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
اسکیم کی تفصیلات
ہر الیکٹرک بائیک پر 65,000 روپے کی سبسڈی دی جائے گی۔
باقی رقم شہری بلاسود قرضوں کے ذریعے ادا کر سکیں گے۔
آن لائن رجسٹریشن کے ذریعے شفافیت کو یقینی بنایا جائے گا۔
اگر درخواست دہندگان کی تعداد زیادہ ہوئی تو قرعہ اندازی کے ذریعے منتخب کیا جائے گا۔
حکومت کا عزم ہے کہ 2030 تک ملک کی سڑکوں پر 20 لاکھ الیکٹرک بائکس موجود ہوں۔
دیگر اہداف میں 53,950 الیکٹرک رکشے، 99,155 کاریں ، 2,238 بسیں ، 2,996 ٹرک شامل ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: الیکٹرک بائیک روپے کی سبسڈی کے لیے
پڑھیں:
بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم
احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔
احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔
احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔