اسلام آباد:

گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہے کہ حکومت کے لیے کیپٹل مارکیٹ کو ایک متبادل اور پائیدار مالیاتی ذریعہ بنانے کی ضرورت ہے۔

سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن پاکستان (ایس ای سی پی) اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے 33ویں رابطہ کمیٹی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر جمیل احمد نے کہا کہ اس طریقہ کار سے بینک نجی شعبے کی مالی معاونت پر زیادہ توجہ دے سکیں گے، جو معاشی ترقی کے لیے مددگار ہوگا۔

انہوں نے مارکیٹ کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں ایس ای سی پی کی کاوشوں کو سراہا اور اصلاحات میں مشترکہ تعاون کے لیے اسٹیٹ بینک کے عزم کا اعادہ کیا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایس ای سی پی کے چیئرمین عاکف سعید نے کہا کہ پاکستان کی سرمایہ مارکیٹ کو مضبوط بنانے میں بینکوں کا اہم کردار ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ اگر بینک سرمایہ مارکیٹ کے اداروں سے قریبی رابطہ اور تعاون کریں تو وہ دستیاب مواقع سے فائدہ اٹھا کر مارکیٹ اور معیشت کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔

اجلاس میں اہم باتوں میں کیپٹل مارکیٹ میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کا شامل کرنا، ریگولیٹری مقصد کے لیے کریڈٹ معلومات تک آسان رسائی اور پرانے کریڈٹ ڈیٹا کے مسائل کا حل شامل تھا۔

کمیٹی نے نئی مالیاتی مصنوعات، مشترکہ ڈیجیٹل نظام اور نئے شعبوں میں ریگولیٹری ہم آہنگی پر ہونے والی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا۔

اجلاس میں دونوں اداروں نے ایک مضبوط، جامع اور ٹیکنالوجی پر مبنی مالیاتی نظام کی تعمیر کے لیے باہمی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اسٹیٹ بینک کے لیے

پڑھیں:

شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف، یکطرفہ طاقت کے استعمال پر سخت تنقید کردی

چولپون آتا (کرغزستان): ایران نے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں یکطرفہ پالیسیوں، بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی اور طاقت کے غیر قانونی استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کثیرالجہتی تعاون کو موجودہ عالمی حالات میں ناگزیر قرار دیا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کرغزستان کے سیاحتی شہر چولپون آتا میں جاری اجلاس کے موقع پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران شنگھائی تعاون تنظیم اور اس جیسے دیگر کثیرالجہتی فورمز کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا میں بڑھتی ہوئی یکطرفہ پالیسیاں، ریاستوں کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کی خلاف ورزیاں اور طاقت کا غیر قانونی استعمال بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور اور عالمی قانونی نظام کی بنیادوں کو کمزور کر رہے ہیں۔

اگرچہ اسماعیل بقائی نے کسی ملک کا نام نہیں لیا، تاہم انہوں نے ماضی میں بھی اسی نوعیت کے بیانات میں امریکا کی خارجہ پالیسی اور اس کے اقدامات پر تنقید کی ہے۔

ایران 2023 میں شنگھائی تعاون تنظیم کا باقاعدہ رکن بنا تھا۔ یہ تنظیم چین اور روس کی قیادت میں قائم ایک اہم یوریشیائی سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی فورم ہے، جس میں پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک شامل ہیں۔

وزرائے خارجہ کا یہ اجلاس تنظیم کے آئندہ سربراہی اجلاس کی تیاریوں کا حصہ ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ سربراہ اجلاس میں علاقائی سلامتی، تجارتی روابط، اقتصادی تعاون اور رکن ممالک کے درمیان شراکت داری کے فروغ جیسے اہم موضوعات پر غور کیا جائے گا۔

We are in Cholpon-Ata, Kyrgyzstan, to participate in the meeting of the Council of Foreign Ministers of the Shanghai Cooperation Organization (SCO) Member States.

Iran attaches great importance to the SCO and similar multilateral arrangement, which represent a vital force for… pic.twitter.com/CCGd7mxcL8

— Esmaeil Baqaei (@IRIMFA_SPOX) July 24, 2026

تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ عالمی کشیدگی کے تناظر میں شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم پر ہونے والی یہ ملاقاتیں خطے میں سفارتی تعاون اور مشترکہ حکمت عملی کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • اسحاق ڈار کی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات، علاقائی امن و استحکام پر تبادلہ خیال
  • : نائب وزیرعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی شنگھائی تعاون تنظیم وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت
  • شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف
  • پاکستان اور آذربائیجان نے دیرینہ دوستی مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کردیا
  • ایس سی او اجلاس: اسحاق ڈار کا علاقائی امن اور تعاون کے فروغ کے عزم کا اعادہ
  • ایس سی او اجلاس کے موقع پر پاک چین وزرائے خارجہ کی ملاقات، علاقائی امن اور تعاون پر تبادلۂ خیال
  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف، یکطرفہ طاقت کے استعمال پر سخت تنقید کردی
  • ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کا آغاز، اسحاق ڈار کی شرکت
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے