مصنوعی مٹھاس کینسر کے علاج میں رکاوٹ بن سکتی ہے، تحقیق
اشاعت کی تاریخ: 5th, August 2025 GMT
ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مصنوعی میٹھاس کینسر کے علاج میں رکاوٹ پیدا کرسکتی ہے۔
سائنسدانوں نے چوہوں پر کی گئی ایک تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کے طور پر استعمال ہونے والا عام جزو سوکرولوز کچھ اقسام کی امیونوتھراپی یعنی مدافعتی نظام پر مبنی کینسر کے علاج کو متاثر کرسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جسمانی وزن کم کرنے کے لیے مصنوعی مٹھاس استعمال نہیں کرنی چاہیے، عالمی ادارہ صحت
یونیورسٹی آف پٹسبرگ کی تحقیق کے مطابق سوکرولوز سے چوہوں کی آنتوں میں موجود بیکٹیریا میں تبدیلی آئی، جس کے باعث ایسے بیکٹیریا بڑھے جو آرجینین نامی قدرتی امینو ایسڈ کو ختم کرتے ہیں۔ آرجینین وہ مادہ ہے جس کی مدد سے ٹی سیلز یعنی جسم کے مدافعتی خلیے کینسر سے لڑتے ہیں۔
تحقیق کی سربراہ پروفیسر ایبی اووراکر نے کہا، ’کینسر کے مریض پہلے ہی ذہنی اور جسمانی دباؤ میں ہوتے ہیں، ایسے میں ان سے کہنا کہ وہ اپنی خوراک سے ڈائیٹ سوڈا یا مصنوعی مٹھاس چھوڑ دیں، شاید مناسب نہ ہو۔ ‘
یہ بھی پڑھیں: کیا آپ چینی کے بغیر مزیدار کیک بنا سکتے ہیں؟
لیکن سائنسدانوں نے اس مسئلے کا ایک ممکنہ حل بھی تلاش کر لیا ہے، جب ان چوہوں کو آرجینین یا سٹرو لِن کے سپلیمنٹس دیے گئے تو علاج کی تاثیر بحال ہوگئی۔
مطالعے کے دوران وہ چوہے جنہیں کینسر کے خلاف ’اینٹی پی ڈی ون‘ (امیونوتھراپی دی گئی اور ساتھ میں سوکرولوز کھلایا گیا، ان میں کینسر کے ٹیومرز بڑے رہے اور بقا کی شرح کم رہی۔
تحقیق کے دوسرے مرحلے میں جلد یا پیپھڑوں کے کینسر میں مبتلا 132 مریضوں کا جائزہ لیا گیا۔ جن مریضوں کی خوراک میں سوکرولوز زیادہ تھا، ان پر امیونوتھراپی کا اثر بھی کم پایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: سروائیکل کینسر سے بچاؤ ممکن: ماہرین کا HPV ویکسین کو قومی پروگرام میں شامل کرنے کا مطالبہ
مطالعے کے سینیئر مصنف ڈاکٹر دیوکار داور نے کہا کہ ان نتائج کی روشنی میں مخصوص پری بایوٹک یا غذائی سپلیمنٹس تیار کیے جاسکتے ہیں جو سوکرولوز کے اثرات کو کم کرسکیں، سٹرو لِن سپلیمنٹ آرجینین کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ثابت ہوسکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news انسان چوہے سائنسدان سوکرولوز کینسر مصنوعی مٹھاس یونیورسٹی آف پٹسبرگ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: چوہے سوکرولوز کینسر مصنوعی مٹھاس یونیورسٹی آف پٹسبرگ مصنوعی مٹھاس کینسر کے
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔