سروائیکل کینسر خواتین میں پایا جانے والا ایک سنگین لیکن قابلِ روک تھام مرض ہے، جو بچہ دانی کے نچلے حصے یعنی سروائیکس کو متاثر کرتا ہے۔

یہ بیماری زیادہ تر ہیومن پیپیلوما وائرس (HPV) کی کچھ خاص اقسام کی وجہ سے ہوتی ہے، جو ایک جنسی طور پر منتقل ہونے والا وائرس ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ پاکستان میں اس بیماری کی شرح بڑھ رہی ہے، اور ہر سال قریباً 5 ہزار سے زائد خواتین اس کا شکار ہو رہی ہیں۔ چونکہ اس کی علامات ابتدا میں ظاہر نہیں ہوتیں، اس لیے زیادہ تر کیسز میں تشخیص بیماری کے آخری مراحل میں ہوتی ہے، جب علاج مشکل ہو جاتا ہے۔

واضح رہے کہ سروائیکل کینسر پاکستانی خواتین کو ہونے والا تیسرا بڑا کینسر ہے جبکہ 15 سے 44 برس کی خواتین میں تیزی سے ہونے والا سرطان دوسرے نمبر پر ہے۔

پاکستان ایچ پی وی سینٹر کی 2023 کی رپورٹ کے مطابق ہر سال 5008 خواتین اس کینسر کا شکار ہوتی ہیں اور 3197 خواتین موت کی آغوش میں چلی جاتی ہیں۔

مزید پڑھیں: خواتین میں بڑھتے سروائیکل کینسر کی وجوہات کیا ہیں؟

خوش آئند بات یہ ہے کہ سروائیکل کینسر سے بچاؤ ممکن ہے، اور اس کے لیے دنیا بھر میں HPV ویکسین استعمال کی جاتی ہے۔ Gardasil اور Cervarix نامی ویکسینز اس وائرس کی ان اقسام کے خلاف مؤثر ہیں جو سروائیکل کینسر کا سبب بنتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ ویکسین 9 سے 14 سال کی عمر کے بچوں (لڑکوں اور لڑکیوں) کو دی جانی چاہیے، یعنی جنسی سرگرمی شروع ہونے سے پہلے۔ تاہم، 15 سے 26 سال تک کی عمر میں بھی یہ ویکسین مؤثر سمجھی جاتی ہے، اور بعض صورتوں میں 27 سے 45 سال کی خواتین کو بھی مشورے سے لگائی جا سکتی ہے۔

اس حوالے سے ماہر امراضِ نسواں ڈاکٹر ثمرین فاطمہ کہتی ہیں کہ ہمارے معاشرے میں جنسی طور پر منتقل ہونے والی بیماریوں پر بات کرنا اب بھی ایک بہت بڑا کلچرلی ٹیبُو ہے۔ چونکہ HPV کا تعلق جنسی رویوں سے جوڑا جاتا ہے، والدین بچوں کو یہ ویکسین لگوانے سے ہچکچاتے ہیں، حالانکہ یہ صرف بچاؤ کے لیے ہے، نہ کہ کسی طرزِ زندگی کی عکاسی۔ ان کا کہنا ہے کہ آگاہی کی کمی، سماجی شرم، اور ویکسین کی قیمت وغیرہ یہ سب مل کر ایک ایسی فضا بناتے ہیں جہاں ایک مؤثر اور جان بچانے والی ویکسین کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: مانع حمل ادویات کا طویل مدتی استعمال سروائیکل کینسر کے خطرے کا سبب ہے، ماہرین

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں یہ ویکسین محدود پیمانے پر دستیاب ہے اور چند نجی اسپتالوں، کلینکس اور میڈیکل اسٹورز پر Gardasil یاCervarix کے نام سے مل سکتی ہے۔ تاہم، ویکسین کی قیمت عام افراد کی پہنچ سے باہر ہے، جو فی ڈوز قریباً 7 سے 12 ہزار روپے کے درمیان ہوتی ہے، اور مکمل کورس میں 2 یا 3 ڈوزز لگتی ہیں۔ بدقسمتی سے، پاکستان میں فی الحال HPV ویکسین کا کوئی قومی سطح پر مربوط پروگرام موجود نہیں جو لازمی طور پر ہونا چاہیے۔

ڈاکٹر ثمرین فاطمہ کہتی ہیں کہ حکومت کو نہ صرف HPV ویکسین کو اپنی قومی حفاظتی ٹیکہ جات مہم میں شامل کرنا چاہیے بلکہ اسکولوں، کالجوں اور کمیونٹیز میں آگاہی پروگرام بھی شروع کرنے چاہئیں تاکہ اس مہلک بیماری سے ہزاروں خواتین کو بچایا جا سکے۔

اسلام آباد شفا انٹرنیشنل اسپتال کی گائناکولوجسٹ ڈاکٹر شہناز نے اس حوالے سے بتایا کہ سروائیکل کینسر کے کیسز میں بہت زیادہ اضافہ ہو رہا ہے اور اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ لوگوں میں نقل و حمل بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔

ڈاکٹر شہناز نے کہا کہ کام کے سلسلے میں لوگ ایک شہر سے دوسرے اور بیرونی ممالک بھی جاتے رہتے ہیں اور جب ٹریولنگ زیادہ بڑھتی ہے تو ان کے پارٹنرز میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے۔

مزید پڑھیں: خواتین میں اووریز کا کینسر کیوں بڑھ رہا ہے؟

انہوں نے مزید کہا کہ ہم جیسے معاشروں میں مردوں کی ٹریولنگ ہی سب سے زیادہ ہے تو وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ سروائیکل کینسر اگر عورت کو ہے تو یہ یقیناً مختلف پارٹنرز کے ساتھ رہ چکی ہے جو بالکل غلط ہے۔

انہوں نے کہا کہ مرد کی عیاشی کو عورت کے سر تھوپنا سراسر غلط ہے کیونکہ ایسے مرد کی وجہ سے عورت سروائیکل کینسر کا شکار ہو رہی ہے اور 90 فیصد سروائیکل کینسر ایچ بی وائرس کے ٹرانسمیشن سے ہو رہا ہے۔

ڈاکٹر شہناز نے کہا کہ ملک میں سروائیکل کینسر کی اسکریننگ نہیں ہوتی ہے اور جب یہ کینسر ایڈوانس اسٹیج پر چلا جاتا ہے تب پتا چلتا ہے کہ یہ لاحق ہوچکا ہے لیکن اس وقت تک یہ کینسر بہت حد تک بڑھ چکا ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ جو خواتین اس کینسر میں مبتلا ہوتی ہیں موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں عورت ویسے ہی اتنی مظلوم ہوتی ہے اگر وہ یہ بتا دے تو گھر میں طوفان برپا ہو جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ عورت شرم اور عزت کے مارے بھی یہ بتانے سے گریز کرتی ہے اور بجائے علاج کے موت کو ترجیح دیتی ہے تاکہ وہ نہ سہی اس کی عزت بچ جائے۔

مزید پڑھیں: امریکا اربوں روپے مالیت کی ادویات کیوں تلف کی جا رہی ہیں؟

ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ کچھ ریسرچ اسٹڈیز یہ بھی کہتی ہیں کہ خواتین میں سروائیکل کینسر کی ایک وجہ غیر معیاری پیڈز کا استعمال بھی ہے کیونکہ پلاسٹک اور کیمیائی مادوں سے بنے یہ پیڈز وجائنل ہیلتھ کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

اس پر اب بھی ریسرچ جاری ہے مگر خواتین کے لیے بہت ضروری ہے کہ وہ اپنی وجائنل ہیلتھ کے لیے کبھی بھی غیر معیاری اشیا کا استعمال نہ کریں اور کسی بھی چھوٹے سے چھوٹے انفیکشن کو بھی سنجیدگی سے لیں اور معالج کے پاس جاکر باقائدہ علاج کروائیں۔ اور سروائیکل ویکسین کی طرف اب لوگوں کہ توجہ لانا بے حد ضروری ہے۔ تاکہ اس کینسر کے کیسز کو کم کیا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

cervical cancer HPV سروائیکل کینسر.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: سروائیکل کینسر کہ سروائیکل کینسر مزید پڑھیں خواتین میں یہ ویکسین HPV ویکسین نے کہا کہ انہوں نے کینسر کی ہوتی ہے ہے اور رہا ہے ہیں کہ کے لیے

پڑھیں:

ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں

حاصل مطالعہ
عبدالرحیم

ٹرمپ نے اسرائیل کو کاک پٹ سے نکال کراکانومی میں بٹھا دیا ہے جس کے اسرائیل اور خاص طور پر وزیر اعظم کیلئے ممکنہ اہم نتائج نکلیں گے۔انہیں اس سال دوبارہ انتخاب کیلئے محنت طلب جنگ کا سامنا ہے۔نتن یاہو نے طویل عرصے سے اسرائیلی ووٹرز سے کہا ہوا ہے کہ وہ ٹرمپ سے سرگوشی کرتا ہے اور صدر کی حمایت برقرارکھنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ جنگ کے ابتدائی دنوں میں ٹیلی ویژن پر تقریر میںانہوں نے اپنے آپ کو صدر کا ہم رتبہ قرار دیا اور اسرائیلیوں کو یقین دلایا کہ ان کی ٹرمپ سے تقریباً روزانہ بات چیت ہوتی ہے،خیالات اور مشورہ کا تبادلہ ہوتا ہے اور وہ اکٹھے فیصلہ کرتے ہیں۔
اے آئی اور بے روزگاری
یہ امر واضح ہے کہ اے آئی ہماری روزمرہ کی زندگیوں کی دوبارہ تشکیل کرے گی۔گولڈ مین ساچز کے اقتصادی ماہرین کا اندازہ ہے کہ اگلے عشرے میں اے آئی موجودہ کام کے گھنٹوں کے25 فی صد کو خودکار بنا دے گی۔ وہائٹ کالر جابز میں لوگ مثلاً اکائونٹنٹس ، بینکرز اور وکلاء اپنے بہت سے کام خودکار پائیںگے،اسٹین فورڈ کے ایک جائزہ کے مطابق سافٹ ویئر انجینئرنگ ،کسٹمر سروس اورانٹری لیول کے روزگار میں16 فیصد کمی آئی ہے۔اقتصادی ماہرین کا اندازہ ہے کہ ڈیٹا سینٹرز کیلئے بڑھتی ہوئی طلب نے2022 سے 2 لاکھ سے زائد کنسٹرکشن روزگارپیدا کیا ہے۔ تین وجوہ ایسی ہیں کہ عالمی معیشت مشکلات سے جلد بحال ہونے کی قوت رکھے گی اور فعال رہے گی۔ اول، اے آئی25 فیصد روزگار کا خاتمہ نہیں کرے گی۔ اس امر کا امکان ہے کہ لوگ اپنا وقت گزارنے کیلئے زیادہ بار آور طریقے تلاش کر لیں گے۔ پہلے ایک بینکنگ تجزیہ نگار کو ایک اسٹاک کی کارکردگی کا گراف بنانے کیلئے 6 گھنٹے لگتے تھے۔ اسے وال اسٹریٹ جرنل کے گزشتہ شمارے دیکھنا پڑتے تھے ،آج ایک تجزیہ نگاریہ کام سیکنڈوں میں کر سکتا ہے۔
دوم، کسی جاب کی کوئی جگہ لے سکتا ہے۔کا یہ مطلب نہیں کہ ایسا ہوگا۔ ٹیلی ویژن میں لائیو انٹرٹینمنٹ کی طلب ختم نہیں ہوئی،نہ ہی انٹرنیٹ نے رئیل اسٹیٹ ایجنٹس یا فٹنس انسٹرکٹرز کا کام ختم کیا۔
سوئم، امریکی کمپنیاں سالانہ ڈھائی کروڑ اور ساڑھے تین کروڑ جابز ختم اور پیدا کرتی ہیں کیونکہ اے آئی چیزوں کوزیادہ جدت پسند بناتی ہے۔ معیشت اپنے آپ کو ڈھالتی رہتی ہے۔
بھارت کے نوجوانوں کیلئے غیر متوقع آواز
ابھیجیت دیپکے نے ڈیجیٹل گروپ کاکروچ جنتاپارٹی اس لئے قائم کی کہ بھارت کے چیف جسٹس سریا کانٹ نے بے روزگار نوجوانوں کو کاکروچ کہہ کر پکارا تھا۔طنزیہ کاکروچ جنتاپارٹی ان نوجوانوں کو اپیل کرتی ہے جنہیں حکومت نے نظر انداز کیا ہے۔دوتین ہفتے قبل ابھی جیت دیپکے امریکہ میں ان ہزاروں بھارتی طلبہ میں ایک تھا جس کے پاس نئی گریجویٹ ڈگری تھی اور ملازمت کا خواہشمند تھا۔ پھر ایک کاکروچ نے اس کی زندگی بدل دی۔اس کی ابتدا ایک سوال سے ہوئی۔اجیت دیپکے بوسٹن یونیورسٹی میں پبلک ریلیشنز پرگرام کا 30 سالہ گریجویٹ تھا۔اس نے16 مئی کو ایکس پر پوسٹ کیاکہ کیا اگر تمام کاکروچز اکٹھے ہو جائیں؟وہ ایک روز قبل بھارت کے چیف جسٹس سریا کانٹ کے کمنٹس کا جواب دے رہا تھا جنہوں نے نوجوان اور بے روزگار بھارتیوں کو کاکروچز کہا تھا جو ملازمتیں حاصل کرنے میں ناکام رہے اور وہ سوشل میڈیا پرشکایت کرتے ہیں اور سرگرم ارکان بن کر سسٹم پر نکتہ چینی کرتے ہیں۔
ہزاروں جواب سے حوصلہ افزائی پاکر جنہوں نے اس کی کال کی توثیق کی،اجیت دیپکے نے اپنی ویب سائٹ پر اے آئی اور دوستوں کی مددسے دو گھنٹے میںمذاق مذاق میںکروچ جنتاپارٹی کا آغاز کیا۔مقصد نوجوانوں کیلئے تحریک پیدا کرناتھا جنہیںسست اور آن لائن پر اور حال ہی میں کروچز کہا جانے لگا۔ لاکھوں نوجوان اس تحریک میں شامل ہو گئے جو بے عزتی کو فخر میں تبدیل کرنے کے خواہشمند تھے۔ دنوں کے اندرکروچ جنتاپارٹی کے بعض اکائونتس میں بھارت کی سب سے بڑی پارٹیوں سے زیادہ سوشل میڈیا کے فالوئرز ہوگئے۔اجیت دیپکے کے پیغام کا قبول کیا جانا بہت سے نوجوان بھارتیوں کے اداس موڈ کی بڑی کہانی بتاتاہے جو ملازمتیں تلاش کرنی کی جدوجہد کر رہے ہیں باوجودیکہ ملک دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت مسلسل4 برسوں سے ترقی کر رہی ہے۔
کاکروچ جنتاپارٹی جس کے10 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز ہیں،ان لوگوں کو زبان دینا چاہتی ہے جنہیں کرپٹ حکومت نظر انداز کرتی ہے۔ ویب سائٹ میں کہا گیا ہے کہ ہم تحریری طور پر پوچھتے ہیں کہ پیسہ کہاں گیا؟ابھی جیت دیپکے نے ایک انٹرویو میں کہا کہ موجودہ سیاسی نظام ان کی پرواہ نہیں کرتا،خواہ سرکاری پارٹی ہو یا اپوزیشن۔ابھی جیت دیپکے اس وقت امریکہ میں ہے۔
ایپل کیا کرتا ہے؟
ایپل اپنی پروڈکٹس ڈایزائن کرتا ہے،ان کے چپس تیار کرتا ہے،آپریٹنگ سسٹم بناتا ہے،برانڈنگ،مارکیٹنگ اور ریٹیل ایکسپیرئینس کو کنٹرول کرتا ہے۔لیکن یہ مینوفیکچرکچھ نہیں کرتا ۔آئی فونز اور میک بکس کو ژینگزو میں فوکس کون اور پیگاٹرون شنگھائی میں مینوفیکچر کرتاہے۔ایڈوانسڈ چپسTSMC تائیوان میں تیار کرتی ہے جبکہ جنوبی کوریا میںسام سنگ ڈس پلے کرتا ہے۔ایپل ہر ڈیوائس سے منافع کا80 تا90 فیصد حاصل کرتا ہے جبکہ سپلائرز جوواقعی فزیکل ورک کرتے ہیں، باقی حصے پر لڑتے ہیں۔ یہ طریق کار کارپوریٹ منافع اور شیئر ہولڈرز کی قدر زیادہ سے زیادہ کرتا ہے۔
٭٭٭

متعلقہ مضامین

  • کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا
  • جمال رئیسانی کا بی وائی سی اور کالعدم بی ایل اے کے مبینہ روابط کا دعویٰ، خواتین کے استعمال کو بلوچ روایات کے خلاف قرار دے دیا
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟