عمران خان نے 5 اگست کے احتجاج پر اطمینان کا اظہار کردیا، عوام کو خراجِ تحسین
اشاعت کی تاریخ: 6th, August 2025 GMT
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 اگست 2025ء ) پاکستان تحریک انصاف کے پیٹرن انچیف عمران خان نے 5 اگست کے احتجاج پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے عوام کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں بہنوں کی عمران خان سے ملاقات کے بعد علیمہ خان نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ 5 اگست احتجاج سے عمران خان مطمئن ہیں اور انہوں نے قوم کو کل نکلنے پر زبردست خراج تحسین پیش کیا ہے کیوں کہ کل لوگ اس ظلم کے خلاف اور حقیقی آزادی کے لیے نکلے ہیں، اللہ کرے لوگ جس مقصد کے لیے کل نکلے ہیں وہ مقصد حاصل ہو جائے، عمران خان نے کہا قیادت بہادری دیکھائے اور قوم کی وہ قیادت کرے جو قوم مانگتی ہے، پارٹی لیڈرز قوم کو 14 اگست کے لیے موبلائز کریں اور 14 کو احتجاج کریں، 14 اگست کا احتجاج ہو گا جس کے بعد عمران خان اگلی تاریخ کا اعلان کریں گے۔
(جاری ہے)
ان کا کہنا ہے کہ عمران خان آج قاسم اور سلیمان کے بارے میں پوچھتے رہے ہیں، عمران خان کو بتایا کہ حکومت ویزہ نہیں دے رہی تو شاید جب انٹرنیشنل میڈیا پر بچے آواز اٹھائیں گے تو حکومت ویزہ دیدے گی، عمران خان نے کہا ہے مشرف اور ضیاء الحق کے مارشل لاء میں اتنا ظلم نہیں ہوا تھا جتنا عاصم لا کے تحت آج پاکستان میں ہو رہا ہے اسظلم۔کو تشبیہ یحییٰ خان کے دور سے تھوڑی بہت دی جاسکتی ہے، جیل کے قیدیوں نے ہمیں بتایا ہے کہ جتنا ظلم عمران خان کے ساتھ یہ کر رہے ہیں وہ ہم عام قیدیوں پر نہیں ہوتا۔ علیمہ خان نے کہا کہ آج جو عظمیٰ خان کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت ملی ہے وہ اجازت شاید ٹرائل مکمل کرنے کے لیے جو جلدی ہے اس کی فارمیلٹی پوری کی ہے کیوں کہ بیرسٹر سلمان صفدر نے کاروائی کا حصہ بننے کے لیے فیملی کو بلانے کی شرط رکھی تھی کیوں کہ اگر ہم فیملی کو اندر سماعت پر نہیں جانے دیں گے تو بیرسٹر سلمان صفدر کارروائی نہیں چلنے دیں گے، میڈیا والے دو یا تین ان کی اپنی مرضی کے اندر جاتے ہیں، آخری ہفتے انہوں نے کہہ دیا عمران خان نے بیٹوں کو پاکستان آنے سے منع کیا ہے، اگلے دن عمران خان نے کہا میں نے کب کہا ہے؟ اس لیے ان دو تین کی کریڈبیلٹی بھی ختم ہو گئی ہے اب ان میڈیا والوں پر کوئی اعتماد نہیں کرتا۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے خان نے کہا کے لیے
پڑھیں:
خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
پاکستان ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف خارجہ محاذ پر سفارتی کامیابیوں کے دعوے کیے جا رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب ملک کے اندر سیاسی، معاشی اور سیکیورٹی کے بحران گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ کسی بھی ریاست کی اصل طاقت اس کی اندرونی مضبوطی ہوتی ہے۔ اگر گھر کے اندر بے چینی، عدم استحکام اور عوامی بے اعتمادی بڑھ جائے تو دنیا میں حاصل ہونے والی سفارتی کامیابیاں بھی دیرپا ثابت نہیں ہوتیں۔
بین الاقوامی تعلقات میں ایک معروف اصول ہے کہ “All foreign policy begins at home یعنی خارجہ پالیسی کی بنیاد مضبوط داخلی استحکام پر ہوتی ہے۔ اگر بلوچستان، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور ملک کے دیگر حصوں میں عوام خود کو غیر محفوظ، محروم یا نظرانداز محسوس کریں تو بیرونی دنیا میں پاکستان کا مقف بھی کمزور پڑ جاتا ہے۔بلوچستان اس وقت پاکستان کی سلامتی اور معیشت کا سب سے اہم خطہ ہے۔ سی پیک، گوادر پورٹ، ریکوڈک، معدنی وسائل اور دیگر اسٹریٹجک منصوبے اسی صوبے سے وابستہ ہیں۔ لیکن افسوس کہ یہی صوبہ بدامنی، سیاسی بے اعتمادی اور احساسِ محرومی کا شکار ہے۔ ریاست اور عوام کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کسی بھی ترقیاتی منصوبے کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
اسی طرح خیبر پختونخوا میں دہشت گردی ہو رہی ہے جبکہ آزاد کشمیر میں حالیہ سیاسی کشیدگی نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ یہ تمام مسائل محض انتظامی نہیں بلکہ سیاسی نوعیت کے ہیں جن کا حل طاقت کے استعمال سے زیادہ سیاسی مکالمے، بہتر حکمرانی اور عوامی اعتماد کی بحالی میں پوشیدہ ہے۔
اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ بلوچستان، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر میں پیدا ہونے والے حالات کے پیچھے بھارت کا کردار موجود ہے۔ اس امکان کو یکسر مسترد نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ہر ملک اپنے مفادات کے مطابق مخالف ریاست کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے داخلی مسائل کا ذمہ دار ہمیشہ بیرونی قوتوں کو قرار دے کر اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ ہو سکتے ہیں؟
اگر بھارت پاکستان کے خلاف سرگرم ہے تو اس کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کے پاس مضبوط انٹیلی جنس ادارے، دفاعی صلاحیت اور قومی سلامتی کا پورا نظام موجود ہے۔خاص طور پر بلوچستان میں اصل مسئلہ سیاسی جواز کا ہے۔ جب عوام کو یہ احساس ہو کہ ان کی رائے اور ووٹ کی اہمیت کم ہو رہی ہے تو ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھنے لگتے ہیں۔ نوجوان نسل میں احساسِ محرومی کا بڑھنا کسی بھی ملک کے لیے خطرناک رجحان ہے۔ پاکستان کو ایسی صورتحال سے ہر قیمت پر بچنا ہوگا۔
آزاد کشمیر کی صورتحال بھی قومی توجہ کی متقاضی ہے۔ یہ محض ایک انتظامی یا علاقائی معاملہ نہیں بلکہ مسئلہ کشمیر سے جڑا ہوا ایک حساس پہلو ہے۔ اگر آزاد کشمیر کے عوام میں بے چینی بڑھتی ہے تو اس کے اثرات مقبوضہ کشمیر تک بھی پہنچتے ہیں اور پاکستان کے اصولی مقف کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آزاد کشمیر کے عوام کی آواز کو سننا اور سیاسی مسائل کا آئینی و جمہوری حل تلاش کرنا ناگزیر ہے۔
پاکستان کو اس وقت الزام تراشی سے زیادہ خود احتسابی کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ وہ کون سی کمزوریاں ہیں جن سے ہمارے مخالف فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اگر ہم اپنے گھر کو منظم، مضبوط اور منصفانہ بنا لیں تو بیرونی سازشیں خود بخود ناکام ہو جائیں گی۔
ریاست کی طاقت صرف اس کے ہتھیاروں، اداروں یا سفارتی تعلقات سے نہیں بلکہ اپنے عوام کے اعتماد سے بنتی ہے۔ جب عوام اور ریاست ایک صفحے پر ہوں تو دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ لیکن اگر داخلی تقسیم، سیاسی کشیدگی اور احساسِ محرومی بڑھتا رہا تو بیرونی کامیابیاں بھی وقتی ثابت ہوں گی۔
آج پاکستان کو سب سے زیادہ ضرورت ایک ایسی قومی حکمت عملی کی ہے جس میں خارجہ کامیابیوں کے ساتھ ساتھ داخلی استحکام، آئینی بالادستی، بہتر حکمرانی، سیاسی مفاہمت اور عوامی اعتماد کی بحالی کو اولین ترجیح دی جائے۔ کیونکہ مضبوط پاکستان کی بنیاد اسلام آباد کے سفارتی ایوانوں میں نہیں بلکہ بلوچستان، خیبر پختونخوا، سندھ، پنجاب، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے عوام کے دلوں میں رکھی جائے گی۔
پاکستان کو اپنی علاقائی خارجہ پالیسی کا بھی غیر جانبدارانہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ خصوصا افغانستان کے ساتھ مسلسل کشیدہ تعلقات کے نتیجے میں ہونے والے جانی، معاشی اور سفارتی نقصانات پر سنجیدہ غور ہونا چاہیے۔ گزشتہ برسوں میں سرحدی کشیدگی، دہشت گردی، مہاجرین کے مسائل اور سرحدی بندشوں نے دونوں ممالک کو نقصان پہنچایا ہے۔ ایک وقت تھا جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سالانہ تجارت تقریبا پانچ سے چھ ارب ڈالر تک پہنچ چکی تھی، مگر کشیدہ تعلقات کے باعث اس میں نمایاں کمی آئی جس کا براہِ راست اثر پاکستان کی معیشت، برآمدات اور سرحدی علاقوں کے کاروبار پر پڑا۔ یہ سوال اہم ہے کہ کیا پاکستان کی معیشت ایسے نقصانات کی متحمل ہو سکتی ہے؟ کیا ہمسایہ ممالک کے ساتھ مستقل کشیدگی قومی مفاد میں ہے یا اس سے نقصان زیادہ اور فائدہ کم ہوتا ہے؟ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی علاقائی پالیسیوں پر ازسرِنو غور کرے۔ مضبوط خارجہ پالیسی وہی ہوتی ہے جو قومی سلامتی کے ساتھ ساتھ اقتصادی مفادات، علاقائی تعاون اور پائیدار امن کو بھی ترجیح دے۔