کویت سٹی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 8 اگست 2025ء) یہ وہ تاریخ ہے جسے جنوبی ایشیا کی تاریخ میں ایک سیاہ دن کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ اس دن بھارت کی بی جے پی حکومت نے ایک غیر قانونی اور ظالمانہ اقدام کرتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت، جو کہ بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 اور 35A کے تحت حاصل تھی، کو ختم کر دیا۔ یہ اقدام نہ صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی تھا بلکہ یہ کشمیری عوام کے حقوق اور ان کے بنیادی انسانی حقوق پر بھی ایک سنگین حملہ تھا۔

اسی دن کی مناسبت سے سفارتخانہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں سفیر پاکستان ڈاکٹر ظفر اقبال نے اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ انہوں نے بھارت کے کشمیر پر غاصبانہ قبضے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔

(جاری ہے)

 انہوں نے کہا کہ یوم استحصال کشمیر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ مسئلہ کشمیر صرف ایک علاقائی تنازع نہیں ہے، بلکہ یہ انصاف، انسانی حقوق اور حق خود ارادیت کا مسئلہ ہے۔

بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں تاکہ وہاں کے اصل باشندوں کو اقلیت میں تبدیل کر دیا جائے، جو کہ ایک بین الاقوامی جرم ہے۔ بدقسمتی سے، عالمی برادری نے اس مسئلے پر ایک مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے، جو کہ کشمیری عوام کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔ کمیونٹی ویلفئیر اتاشی حمزہ توقیر نے صدر مملکت، وزیراعظم پاکستان اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ کے پیغامات پڑھ کر سنائے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس صورتحال میں اوورسیز پاکستانی، پاکستانی قوم اور دنیا بھر کے حریت پسندوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ کشمیریوں کی جدوجہد کو فراموش نہ کریں۔ یوم استحصال کشمیر کو منانے کا مقصد صرف احتجاج کرنا نہیں بلکہ یہ اس عزم کی تجدید ہے کہ جب تک کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت نہیں مل جاتا، ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے

پڑھیں:

باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔

(جاری ہے)

درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔

متعلقہ مضامین

  • لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ، خاتون کو دوسرے شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت
  • لاہور: ماں دوسرے شوہر کے ساتھ چلی گئی، عدالت کے باہر 8 بیٹیاں روتی رہیں، ویڈیو وائرل
  • ویمنز ٹی20 رینکنگ؛ پاکستانی اسپنر سعدیہ اقبال بڑے اعزاز سے محروم
  • اسحاق ڈار کا کویتی وزیر خارجہ سے رابطہ‘ بیلجیئم میں تعینات پاکستانی سفیر کی ملاقات
  • اٹلی میں 10500 پاکستانیوں کو لیبر موبیلیٹی معاہدے کے تحت روزگار مواقع ملیں گے, اطالوی سفیر
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال