سمارٹ ڈپلومیسی کا آغاز، وطن کو باوقار مقام دلوانے کیلئے قوم فیلڈ مارشل کی مقروض رہیگی
اشاعت کی تاریخ: 7th, August 2025 GMT
تجزیہ: فیصل ادریس بٹ
پاکستان میں سول و ملٹری اشتراک سے سمارٹ ڈپلومیسی کے آغاز نے یقینی طور پر تاریخی اعتبار سے سفارتکاری کے نئے و سنہری باب رقم کردیئے ہیں۔ وطن عزیز کو دنیا بھر میں پروقار اور ممتاز حیثیت ،مرتبہ و مقام دلوانے کیلئے قوم فیلڈ مارشل عاصم منیر کی مقروض رہے گی جنہوں نے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے بہترین اور بروقت استعمال سے جغرافیائی و نظریاتی سرحدوں کے دفاع کے علاوہ بیانئے کی جنگ میں کامیابی دلوائی بلکہ سفارتی و معاشی میدان میں بھی سرخرو کر دیا ہے اور آج پاکستان دنیا کی دو سپر پاورز امریکہ اور چین جو ایک دوسرے کے حریف ہیں، ان دونوں کیساتھ متوازن اور پروقار انداز میں گرمجوشی کیساتھ دفاعی و معاشی تعلقات کو فروغ دے رہا ہے۔ حال ہی میں امریکہ اور چین کے کامیاب دورے کے بعد فیلڈ مارشل عاصم منیر رواں ماہ ایک بار پھر امریکہ کے دورے پر روانہ ہو سکتے ہیں کیونکہ امریکی سنٹرل کمانڈ کے کمانڈر جنرل ایرک کوریلا کی ریٹائرمنٹ کے بعد نئے کمانڈر جنرل بریڈکوپر کی سنٹرل کمانڈ کے عہدے پر تقرری کی تقریب میں انہیں بطور مہمان خصوصی مدعو کیا گیا ہے۔ اس تقریب میں دنیا بھر سے کسی مہمان کو مدعو نہیں کیا جاتا یہ اعزاز فیلڈ مارشل عاصم منیر کا ہے کہ انہیں اس تقریب میں بطور مہمان مدعو کیا گیا ہے، ایک طرف تو حالیہ دنوں میں فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ان کی خواہش پر ایک طویل ملاقات کر چکے ہیں اور امریکی سینٹرل کمانڈ کے جنرل ایرک کوریلا پاکستان کا دورہ کر کے گئے ہیں تو اس عہدے پر تقرر کئے جانے والے جنرل بریڈ کوپر کے عہدہ سنبھالنے پر بھی فیلڈ مارشل کو مدعو کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ جنرل بریڈ کوپر امریکی انتظامیہ میں انتہائی اہمیت کے حامل ہونے کے علاوہ مشرق وسطیٰ، یورپی یونین سمیت دنیا بھر انتہائی اہم تصور کئے جاتے ہیں اور وہ بھی فیلڈ مارشل عاصم منیر کو اس تقریب میں دیکھنے کے خواہشمند ہیں تو دوسری جانب فیلڈ مارشل چینی قیادت کیساتھ بھی اپنے تاریخی تعلقات کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ یہی نہیں مڈل ایسٹ کی صورتحال کے تناظر میں پاکستان نے جس طرح سے موثر سفارتکاری کے نئے چیلنجز کو عبور کیا ہے اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پاکستان کو سفارتی تنہائی سے نکال کر جس طرح عالمی سطح پر اپنا بیانیہ اور موقف کو تسلیم کر ایا ہے اس سے دنیا بھر میں وطن عزیز کے مقام اور وقار میں اضافہ ہوا ہے بلکہ اس سے بھارت کی نیندیں اڑ چکی ہیں اور نوبت یہاں تک آگئی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھارت کو روسی تیل کی خریداری پر وارننگ دے رہے ہیں جو بہت بڑی کامیابی ہے۔ فیلڈ مارشل کی امریکی صدر سے ملاقات کے بعد اسرائیل ایران جنگ بندی میں اہم کردار، فیلڈ مارشل کا دورہ چین و اہم ملاقاتیں، پاک امریکہ تاریخی تجارتی معاہدہ، ایرانی صدر کا دورہ اور آئندہ ماہ فیلڈ مارشل کا دوبارہ دورہ امریکہ ہو یا ترکیہ، آذربائیجان، سعودی عرب، روس ، بنگلہ دیش و دنیا کے اہم ممالک کیساتھ سفارتی، معاشی و دفاعی بہترین تعلقات اسکا واضح ثبوت ہیں اور اس حقیقت کا مظہر بھی ہیں کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی نڈر، بے باک وبا کردار قیادت نے مختلف نظریات و گروہوں میں تقسیم قوم کو متحد کردیا ہے اور ثابت کردیا ہے کہ جب قومیں خود اعتمادی، تدبر، عزت نفس کیساتھ کھڑی ہو جائیں اور عزم ویقین کیساتھ منزل کی جانب بڑھیں تو مقصد کا حصول یقینی ہو جاتا ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے عملی طور پر یہ ممکن کر کے دکھایا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: فیلڈ مارشل عاصم منیر دنیا بھر ہیں اور
پڑھیں:
جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ترقی اور بقا کے درمیان فاصلہ تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ ہم نے صدیوں تک یہ سمجھا کہ فطرت ہمارے لیے ایک لامحدود خزانہ ہے جس سے ہم جتنا چاہیں لے سکتے ہیں مگر اب زمین ہمیں بتا رہی ہے کہ ہر نعمت کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ بڑھتی ہوئی گرمی، بے موسم کی بارشیں، خشک سالی، سیلاب اور آلودگی محض موسمی واقعات نہیں رہے بلکہ ایک بڑے ماحولیاتی بحران کی نشانیاں بن چکے ہیں۔
آج جب یورپ میں گرمی کی نئی لہر ریکارڈ توڑ رہی ہے۔ پرتگال اپنے مئی کے مہینے کا سب سے زیادہ درجہ حرارت دیکھ رہا ہے۔ اسپین، فرانس اور اٹلی میں خطرے کے الارم بج رہے ہیں،یہ انسانی تہذیب کے لیے ایک تنبیہ ہے۔ جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات بڑھ رہے ہیں اور دنیا بھر کے ماہرین ماحولیات مسلسل خبردار کر رہے ہیں تو یہ صرف موسم کی تبدیلی کی خبر نہیں بلکہ انسانی طرز زندگی پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اب بھی ان انتباہات کو معمول کی خبروں کی طرح نظرانداز کرتے رہیں گے یا اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کریں گے؟
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ کہیں دور قطب شمالی کے پگھلتے ہوئے گلیشیئرز یا بحرالکاہل کے ڈوبتے ہوئے جزیروں کا مسئلہ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ اب ہمارے گھروں، ہماری گلیوں اور ہمارے شہروں تک آ پہنچا ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں حالانکہ دنیا میں کاربن کے اخراج میں ہمارا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔
کراچی اس کی ایک زندہ مثال ہے۔ اس شہر میں گرمی صرف ایک موسم نہیں ،ایک آزمائش ہے۔ مئی اور جون کی دوپہر میں جب سورج آگ برساتا ہے تو سڑکوں پر چلنے والا عام آدمی کسی پناہ گاہ کی تلاش میں ہوتا ہے، لیکن اسے سایہ کہاں ملے؟ ہمارے شہر کی بڑی شاہراہوں پر درخت کم ہوتے جا رہے ہیں۔
نئی سڑکیں بنتی ہیں، فلائی اوور بنتے ہیں، کنکریٹ کے جنگل پھیلتے جاتے ہیں مگر درختوں کی تعداد گھٹتی جاتی ہے۔ میں اکثر سوچتی ہوں کہ ایک مزدور جو صبح سے شام تک دھوپ میں محنت کرتا ہے، ایک خاتون جو بس اسٹاپ پر کھڑی ہے،ایک طالب علم جو پیدل گھر جا رہا ہے، ایک ٹریفک پولیس اہلکار جو گھنٹوں دھوپ میں کھڑا رہتا ہے ان کے لیے شہر نے کیا انتظام کیا ہے؟ ان کے لیے سایہ کہاں ہے؟ کون سا درخت لگایا گیا ہے۔
یورپ میں جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو حکومتیں عوام کو خبردار کرتی ہیں۔ شہریوں کے لیے حفاظتی ہدایات جاری کی جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں گرمی کا سامنا زیادہ تر فرد کی اپنی ذمے داری سمجھ لیا جاتا ہے، گویا سورج سے بچنا بھی ایک ذاتی مسئلہ ہے اجتماعی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ درخت صرف خوبصورت منظر کے لیے نہیں ہوتے۔ وہ زندگی ہوتے ہیں ،وہ فضا کو صاف کرتے ہیں ،زمین کو ٹھنڈا رکھتے ہیں ،پرندوں کو گھر دیتے ہیں اور انسانوں کو سانس لینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ایک درخت کاٹنا صرف ایک درخت کاٹنا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے حصے کی ٹھنڈک چھین لینا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ صرف درجہ حرارت کا مسئلہ بھی نہیں، یہ انصاف کا مسئلہ ہے دنیا کے امیر ممالک نے دو صدیوں تک صنعت کاری کے نام پر فضا میں کاربن بھرا اور آج اس کی قیمت وہ ممالک ادا کر رہے ہیں جو پہلے ہی غربت بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔ اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ پریشان کن چیز شاید ہماری بے حسی ہے۔ ہم ہر سال گرمی کے نئے ریکارڈ بنتے دیکھتے ہیں سیلاب آتے دیکھتے ہیں خشک سالی بڑھتی دیکھتے ہیں مگر پھر بھی اسے ایک عارضی خبر سمجھ کر بھول جاتے ہیں۔
زمین کی تاریخ ہمیں ایک عجیب سبق دیتی ہے۔ سائنس دان بتاتے ہیں کہ اربوں سال پہلے جب زمین کے ماحول میں آکسیجن کی مقدار اچانک بڑھی تھی تو اس وقت موجود بے شمار جاندار اس تبدیلی کو برداشت نہ کر سکے۔ اس واقعے کو بعض اوقات عظیم آکسیجنی تباہی کہا جاتا ہے اور اسے زمین کی اولین عظیم حیاتیاتی تبدیلیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ زندگی ختم نہیں ہوئی تھی لیکن زندگی کی بہت سی اشکال ختم ہو گئی تھیں۔ کچھ نئی انواع نے جنم لیا اور ارتقا کا سفر آگے بڑھتا رہا۔یہ بات ہمیں یاد رکھنی چاہیے کہ فطرت انسان کے بغیر بھی زندہ رہ سکتی ہے لیکن انسان فطرت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔
آج ہم خود اپنے ہاتھوں سے فضا میں کاربن بھر رہے ہیں۔ کارخانوں کا دھواں، بے ہنگم شہری پھیلاؤ، جنگلات کی کٹائی، فضائی آلودگی اور لامحدود منافع کی دوڑ ہمیں ایک ایسے راستے پر لے جا رہی ہے جہاں ایک نئی ماحولیاتی تباہی کا خطرہ موجود ہے۔ شاید زمین باقی رہے گی، سمندر باقی رہیں گے، پہاڑ باقی رہیں گے اور شاید زندگی کی کوئی نئی شکل بھی باقی رہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس دنیا میں انسان اسی طرح موجود رہیں جیسے آج ہیں۔ ارتقا کا عمل رکتا نہیں زندگی کسی نہ کسی صورت اپنا راستہ نکال لیتی ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اپنی جگہ برقرار رکھ سکیں گے؟
یہ بات کسی خوف پھیلانے کے لیے نہیں کہی جا رہی بلکہ اس لیے کہ ہم حقیقت کو سمجھ سکیں۔ جو زہر ہم ماحول میں بو رہے ہیں وہ آخرکار ہماری اپنی سانسوں میں شامل ہو رہا ہے۔ جو درخت ہم کاٹ رہے ہیں ان کی کمی ہمارے اپنے جسموں پر گرمی کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ جو دریا ہم آلودہ کر رہے ہیں وہی آلودگی ہماری اپنی زندگیوں میں واپس آ رہی ہے۔اس لیے شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم ترقی کے معنی پر دوبارہ غور کریں۔ کیا ترقی صرف اونچی عمارتوں کا نام ہے؟ کیا ترقی صرف نئی شاہراہوں اور بڑے منصوبوں کا نام ہے؟ یا پھر ترقی کا مطلب یہ بھی ہے کہ ایک شہر میں چلنے والا انسان سایہ پا سکے صاف ہوا میں سانس لے سکے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک قابلِ رہائش دنیا چھوڑ سکے؟
دنیا کی یہ بدلتی حالت شاید ہمیں ایک آخری موقع دے رہی ہے۔ ایک موقع کہ ہم اپنے رویوں پر نظرثانی کریں اپنی ترجیحات بدلیں اور زمین کے ساتھ اپنے رشتے کو دوبارہ سمجھیں، کیونکہ فطرت انتقام نہیں لیتی وہ صرف اپنا توازن بحال کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب وہ توازن بحال ہوگا تو کیا ہم اس کا حصہ ہوں گے یا تاریخ کی کسی معدوم نسل کی طرح صرف ایک یاد بن کر رہ جائیں گے۔