کراچی سمیت ملک بھر کے صارفین کے لیے اچھی خبر، بجلی مزید سستی
اشاعت کی تاریخ: 7th, August 2025 GMT
اسلام آباد:
نیشنل الیکٹر ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے ملک بھر کے صارفین کے لیے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی 1.89روپے فی یونٹ سستی کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
نیپرا کے فیصلے کے مطابق سی ماہی ایڈجسٹمنٹ میں بجلی کی قیمت میں کمی کا فیصلہ وفاقی حکومت کو بھیج دیا گیا ہے اور یہ کمی اپریل تا جون2025 کی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں منظورکی گئی ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ بجلی کی قیمت میں کمی کا اطلاق کے-الیکڑک سمیت تمام ڈسکوز صارفین پر ہوگا اور بجلی کی قیمت میں کمی کا اطلاق اگست تا اکتوبر 2025 کے 3 ماہ کے لیے ہوگا۔
نیپرا نے بتایا کہ بجلی صارفین کو کمی کا55 ارب87 کروڑ40 لاکھ روپے کا ریلیف ملے گا جبکہ اس کمی کا اطلاق لائف لائن اور پری پیڈ صارفین پر نہیں ہوگا۔
نیپرا کے مطابق بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں بجلی سستی کرنے کی درخواست کی اور نیپرا نے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر 4 اگست کوسماعت کی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ بجلی کی کمی کا
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔