مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی گاڑی گہری کھائی میں جاگری؛ 3 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی
اشاعت کی تاریخ: 7th, August 2025 GMT
مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے نیم فوجی دستے سی آر پی ایف کی بس گہری کھائی میں جاگری۔
بھارتی میڈیا کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ مقبوضہ کشمیر کے ضلع ادھم پور کے علاقے بسنت گڑھ میں پیش آیا۔
جہاں سی آر پی ایف کے 23 اہلکاروں کو لے جانے والی بس پہاڑی راستے پر ایک خطرنا موڑ کاٹتے ہوئے ڈرائیور سے بے قابو ہوگئی۔
بھارتی فوج کی بس بس توازن کھونے کے بعد ایک گہری کھائی میں جاگری جس کے نتیجے میں 17 اہلکار بری طرح زخمی ہوگئے۔
زخمی اہلکاروں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں 3 اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کردی گئی جب کہ دیگر 15 کو داخل کرلیا گیا۔
زخمیوں میں سے 6 کی حالت نازک ہونے کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ 7 اہلکار انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں زیر علاج ہیں۔
بھارتی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حادثے میں دہشت گردی کے عنصر کے ملوث ہونے کے شواہد نہیں ملے۔
تاہم حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ حادثہ ڈرائیور کی غفلت کا نتیجہ تھا یا سڑک کی خستہ حالی کے باعث حادثہ پیش آیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
برطانوی ایوانِ بالا کے رکن لارڈ قربان حسین نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے حالات نسل کُشی کی طرف جارہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق لارڈ قربان حسین نے برطانوی پارلیمنٹ میں مقبوضہ کشمیر کی انسانی حقوق کی صورتحال پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق وہاں کے حالات نسل کشی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔
انہوں نے جینوسائڈ واچ کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے برطانوی حکومت سے پوچھا کہ وہ ان انتباہات کو کس حد تک سنجیدگی سے لیتی ہے اور ممکنہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہے۔
جواب میں برطانوی حکومت کی جانب سے پارلیمانی انڈر سیکرٹری لارڈ کولنز نے کہا کہ برطانیہ انسانی حقوق سے متعلق اپنے دیرینہ مؤقف پر قائم ہے اور بھارتی پولیس یا سکیورٹی فورسز کے خلاف مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کی مکمل، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی حمایت کرتا ہے۔