لاہور: ہڈیارا ڈرین کو زہریلے صنعتی کچرے سے پاک کرنے کا انقلابی منصوبہ کیا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 7th, August 2025 GMT
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے میں ماحول اور عوامی صحت کے تحفظ کے لیے ایک بڑا اورانقلابی قدم اٹھاتے ہوئے دریائے راوی میں گرنے والے 54 کلومیٹر طویل ہڈیارا ڈرین کو زہریلے صنعتی فضلے اور مضر صحت گندگی سے پاک کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے متعلقہ محکموں اور ضلعی حکام کو اہداف دے دیے گئے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے قائداعظم انڈسٹریل اسٹیٹ کے 50 سے زائد صنعتی یونٹس کو ستوکاتلہ ڈرین کے ذریعے ہڈیارا ڈرین میں کچرا پھینکنے سے روکنے کے فوری اقدامات کی ہدایت کی ہے۔ اسی طرح فیصل آباد کی صنعتوں کو شہری آبادی سے ہٹا کر انڈسٹریل اسٹیٹ میں منتقل کرنے اور سیالکوٹ میں چمڑا رنگنے والی فیکٹریوں کو مخصوص صنعتی علاقوں میں منتقل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: ’اب نتھیا گلی اپنے گھر جا کر دکھاؤ’ علی امین گنڈاپور نے مریم نواز شریف کو چیلنج کردیا
ماحولیاتی تحفظ کے ادارے (EPA) کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر عمران حامد شیخ نے اس سلسلے میں سیکریٹری صنعت پنجاب، ڈی جی ایل ڈی اے، اور پنجاب انڈسٹریل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو کو خط بھی ارسال کر دیے ہیں۔
خط میں واضح کیا گیا کہ ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی جانب سے ہڈیارا ڈرین میں زہریلا کچرا براہ راست یا بالواسطہ پھینکنے سے ماحولیات، انسانی صحت اور آبی حیات کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
ڈائریکٹر جنرل EPA نے تجویز دی ہے کہ قائداعظم انڈسٹریل اسٹیٹ میں 10 ایکڑ پر مشتمل مشترکہ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ پر پیشرفت کی جائے۔ فیصل آباد میں رنگنے اور کپڑا بنانے والے کارخانوں کو ایم-3 انڈسٹریل اسٹیٹ میں منتقل کیا جائے۔
یاد رہے کہ ہڈیارا ڈرین کا کل فاصلہ 98 کلومیٹر ہے، جس میں سے 44 کلومیٹر بھارت میں اور 54 کلومیٹر پاکستان میں ہے۔ یہ نالا پہلے سیلابی پانی کے لیے قدرتی گزرگاہ تھا لیکن اب اسے صنعتی و گھریلو فضلے نے آلودہ کر دیا ہے۔
مزید پڑھیں: مریم نواز شریف کی مسجد نبوی میں بچوں کو تعلیم، ویڈیو وائرل
ڈاکٹر عمران حامد شیخ کے مطابق پاکستان میں ہڈیارا ڈرین کے ساتھ 80 سے زائد صنعتیں موجود ہیں۔ اس نالے کا آلودہ پانی زرعی مقاصد اور سبزیوں کی کاشت کے لیے استعمال ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں دھاتیں اور خطرناک جراثیم سبزیوں اور پھلوں کے ذریعے انسانی جسم میں منتقل ہو رہے ہیں۔
تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ پالک، بینگن جیسی سبزیاں ہڈیارا ڈرین کے زہریلے اجزاء کو جذب کر لیتی ہیں، جس سے جان لیوا بیماریاں جنم لے رہی ہیں۔ خاص طور پر تانبے اور سیسے سے بننے والی دھاتیں سبزیوں میں شامل ہو کر انسانی صحت پر مہلک اثرات ڈال رہی ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ اس منصوبے میں تاخیر نہ کی جائے اور ماحولیاتی تحفظ کو ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو محفوظ اور صحت مند زندگی مہیا کی جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
مریم نواز شریف ہڈیارا ڈرین وزیراعلٰی پنجاب.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: مریم نواز شریف ہڈیارا ڈرین انڈسٹریل اسٹیٹ مریم نواز شریف ہڈیارا ڈرین کے لیے
پڑھیں:
لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
لاہور میں مون سون کی شدید بارشوں نے معمولات زندگی متاثر کر دیے، کئی علاقوں میں سڑکیں، چوراہے اور انڈر پاسز پانی میں ڈوب گئے جبکہ ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران شہر میں 343 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث متعدد نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا۔
لاہور کے مختلف علاقوں میں بارش کا پانی جمع ہونے سے شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض سڑکوں اور گلیوں میں 3 سے 4 فٹ تک پانی کھڑا رہا، جبکہ کئی مقامات پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بارش کے بعد کئی علاقے زیر آب، ’اب آفس جانےکے لیے کشتی کی ضرورت ہوگی‘
ڈیفنس کے فیز ون سے فیز فائیو تک مختلف مقامات پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک متاثر ہوئی، جبکہ غازی انڈر پاس اور مسجد چوک انڈر پاس کو پانی بھرنے کے باعث بند کرنا پڑا اور ٹریفک کو متبادل راستوں پر منتقل کیا گیا۔
حربنس پورہ، مال روڈ، کوپر روڈ، لکشمی چوک اور چوبرجی چوک سمیت متعدد علاقوں میں بھی پانی جمع ہونے کی اطلاعات ملیں، جہاں واسا کی ٹیمیں نکاسی آب میں مصروف رہیں۔
شدید بارش کے باعث شہر کی کئی سڑکوں پر گڑھے بھی پڑ گئے۔ کینال روڈ، جوہر ٹاؤن مین بلیوارڈ اور بھیکے والا موڑ سمیت مختلف مقامات پر سڑکیں متاثر ہوئیں، جس کے بعد ٹریفک پولیس نے متاثرہ علاقوں کو بند کرکے متبادل راستے فراہم کیے۔
یہ بھی پڑھیں: مون سون سیزن: لاہور سے ایک گھنٹے میں بارش کا پانی نکالنا ہدف ہے، ڈی ایم ڈی واسا
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق پنجاب میں حالیہ مون سون بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں اب تک 21 افراد جاں بحق اور 154 زخمی ہو چکے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں 15 افراد مکانات گرنے، 2 آسمانی بجلی گرنے، 3 کرنٹ لگنے جبکہ ایک شخص ڈوبنے سے جاں بحق ہوا۔
واسا لاہور کے مطابق شہر میں ہنگامی بنیادوں پر نکاسی آب کا عمل جاری ہے، تمام ڈسپوزل اسٹیشن مکمل استعداد کے ساتھ کام کر رہے ہیں جبکہ متاثرہ مقامات پر اضافی مشینری اور عملہ تعینات کیا گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ اور واسا نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے، نشیبی علاقوں اور بجلی کے کھمبوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔ شہریوں نے تاہم ہر سال بارشوں کے دوران پانی جمع ہونے کے مسئلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بارش پانی زیر آب لاہور