کپل شرما کے کیفے پرپھرگولیاں چل گئیں ،دوسرا بڑاحملہ
اشاعت کی تاریخ: 8th, August 2025 GMT
کینیڈین شہر سرے میں کپل شرما کے کیفے پر ایک بار پھر مسلح افراد نے حملہ کر دیا۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے جائے وقوعہ پر پہنچ کرعلاقے کو گھیرے میں لے لیا۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق گزشتہ جمعرات کی صبح سرے میں کیپس کیفے کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور گولیوں کے نشانات دیکھے گئے۔
پولیس کو تقریباً چار بج کرچالیس منٹ پر اطلاع دی گئی۔ جائے وقوعہ سے گولیوں کےپچیس خول ملے ہیں جبکہ حملہ آور پولیس کے پہنچنے سے پہلے ہی فرار ہو چکے تھے۔
رپورٹ کے مطابق خوش قسمتی سے اس حملے میں کوئی زخمی نہیں ہوا تاہم کیفے کو بری طرح نقصان پہنچا۔ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ واقعہ ممکنہ طور پر بھتہ خوری کا نتیجہ تھا۔
ابھی تک کپل شرما یا ان کی ٹیم کی جانب سے حملے پر کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ کیفے منیجر نے پولیس کی کارروائی پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ مکمل تعاون کر رہے ہیں۔
چند ہفتے قبل اسی کیفے کو بھی فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا تھا جب نامعلوم حملہ آوروں نے نئے کھلنے والے کیفے پر اس وقت فائرنگ کی تھی جب عملہ اندر موجود تھا۔ اس واقعے میں کوئی زخمی نہیں ہوا لیکن کیفے کی دیواروں پر گولیوں کے نشانات دکھائی دے رہے تھے۔
اس حملے کی ذمہ داری ببر خالصہ انٹرنیشنل سے تعلق رکھنے والی ایک بنیاد پرست خالصتانی تنظیم ہرجیت سنگھ لاڈی نے قبول کی تھی۔ لاڈی نے دعویٰ کیا کہ کپل شرما نے سکھ برادری کامذاق اڑایاتھااس لیے حملہ کیاگیا۔
دوسری جانب بھارتی میڈیا نے حالیہ حملے کا ذمہ دار لارنس بشنوی گینگ کو قرار دیا ہے۔ ایک آڈیو کلپ میں گولی چلنے کی آواز پر گولی چلانے والے کو سنا جا سکتا ہے، “ہم نے ٹارگٹ کو فون کیا، لیکن اس نے بات نہیں سنی، اس لیے ہمیں کارروائی کرنی پڑی، اگر اس نے پھر بھی نہ سنا تو اگلا قدم ممبئی میں ہوگا۔”
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ممبئی پولیس اور دیگر سیکیورٹی ادارے مزید کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکنے کے لیے آڈیو اور ممکنہ خطرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
سرے پولیس نے کہا کہ وہ دونوں حملوں کی تحقیقات کر رہے ہیں اور جلد ہی مکمل رپورٹ جاری کریں گے۔
کپل شرما کے کیفے پر بار بار ہونے والے حملوں نے مقامی کمیونٹی میں تشویش کو جنم دیا ہے۔ علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے اور کاروباری اداروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے پولیس اور سیکیورٹی ادارے اس سلسلے میں سخت اقدامات کر رہے ہیں۔
Post Views: 5.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کپل شرما کیفے پر رہے ہیں
پڑھیں:
بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
بلوچستان میں حالیہ دہشتگرد حملوں اور ایک جج کے قتل کے تناظر میں کالعدم بی ایل اے اور داعش کے پی کے درمیان مبینہ روابط کے حوالے سے نئے دعوے سامنے آئے ہیں۔
عوام کی جانب سے بی ایل اے کو اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں شہریوں اور عوامی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے والے حملوں میں بی ایل اے ملوث رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف پاکستان کی کامیاب کارروائیاں، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے مشترکہ پناہ گاہ ڈھونڈنے پر مجبور
اس کے نتیجے میں بے گناہ شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال متاثر ہو رہی ہے۔
عوامی انفراسٹرکچر پر حملوں سے شہری متاثرواضح رہے کہ عوامی انفراسٹرکچر، خصوصاً پلوں اور سڑکوں کو نشانہ بنانے سے آمدورفت، کاروباری سرگرمیوں، ہنگامی امدادی خدمات اور روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔
اس کا سب سے زیادہ نقصان بلوچستان کے عام شہریوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے، جنہیں بنیادی سہولیات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
جج کے قتل کو عدلیہ پر حملہ قرار دیا گیاعوامی حلقوں میں بلوچستان میں مستونگ کے علاقے میں جج کے قتل کو عدلیہ اور نظامِ انصاف پر براہِ راست حملہ قرار دیا جا رہا ہے جو کہ کالعدم بی ایل اے نے کیا جبکہ اس کی ذمہ داری داعش کے پی نے قبول کی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر سینیئر صحافی اس صورتحال کو دونوں تنظیموں کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
اقوامِ متحدہ سے کارروائی کا مطالبہواضح رہے کہ کالعدم داعش کے پی پہلے ہی اقوامِ متحدہ کی جانب سے دہشت گرد تنظیم قرار دی جا چکی ہے، جبکہ کالعدم بی ایل اے اب تک اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل نہیں ہے۔
مزید پڑھیں:ماہرنگ لانگو کے والد کی قبر پر کالعدم بی ایل اے کا پرچم لہرانے کی ویڈیو وائرل، اصل چہرہ بے نقاب
اسی بنیاد پر مطالبہ کیا گیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کالعدم بی ایل اے کی سرگرمیوں کا جائزہ لے کر اسے فوری دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا جائے۔
ادھر خیبر پختونخوا سے سینیئر صحافی حسن خان نے ایکس پر لکھا ہے کہ ’بلوچستان کے ضلع مستونگ کے قریب سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین کے قتل کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم آئی ایس کے پی (داعش خراسان) نے قبول کر لی ہے۔
ISKP has claimed responsibility for the targeted killing of Sessions Judge Abdul Hakeem Kakar and his gunman while they were on their way to Mastung early on Thursday. Another judge was injured in the attack, according to officials.
This ISKP claim raises questions about a…
— Hassan khan (@hasankhyber) July 23, 2026
حملے میں ایک اور جج بھی زخمی ہوئے، جبکہ واقعے کے بعد سیکیورٹی اور تحقیقاتی اداروں نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔
سرکاری حکام کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ جمعرات کی صبح مستونگ جا رہے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ فائرنگ کے نتیجے میں جج اور ان کا گن مین جاں بحق ہو گئے، جبکہ ایک اور جج زخمی ہوئے۔
آئی ایس کے پی کے دعوے کے بعد نئے سوالاتحملے کے چند گھنٹوں بعد آئی ایس کے پی نے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول کر لی، جس کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے بی ایل اے اور آئی ایس کے پی کے درمیان مبینہ روابط پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:لاپتا افراد کی آڑ میں کئی نوجوان دہشتگردی میں ملوث، بی ایل اے کا مکرو چہرہ بے نقاب
کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حملے کا طریقۂ کار ماضی میں بلوچستان میں ہونے والے بعض حملوں سے مماثلت رکھتا ہے، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اس حملے میں کسی دوسری تنظیم کا کردار تھا یا دونوں گروہوں کے درمیان عملی تعاون موجود ہے۔
عدلیہ کو نشانہ بنانے کے محرکات کی تحقیقات جاریبعض مبصرین کے مطابق یہ حملہ عدلیہ کو خوفزدہ کرنے یا دباؤ میں لانے کی کوشش ہو سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب حالیہ دنوں میں بلوچ یکجہتی کونسل کی مرکزی رکن ماہ رنگ لانگو کے خلاف عدالتی فیصلہ سامنے آیا ہے۔
تحقیقاتی ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ حملہ آوروں کی شناخت اور ممکنہ سہولت کاروں کا تعین کیا جا سکے۔
ایک روز قبل مسافر بس پر حملہیہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ایک روز قبل بلوچستان میں مسافر بس پر حملے میں 5 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ سرکاری حکام نے اس حملے کا الزام بی ایل اے پر عائد کیا تھا۔
حکام کے مطابق مسلح افراد نے بس کو رکنے کا اشارہ کیا اور ڈرائیور کے گاڑی بھگانے پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 5 مسافر جان کی بازی ہار گئے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ بی ایل اے پابندی خراسان داعش فہرست کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی ماہ رنگ لانگو مطالبہ