کیا خواجہ آصف نے استعفیٰ دیا اور ان کے دوست اے ڈی سی آر کو کیوں اٹھوایا گیا؟ نجم سیٹھی کے بڑے انکشافات
اشاعت کی تاریخ: 8th, August 2025 GMT
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )سینئر صحافی نجم سیٹھی نے وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کی بیوروکریسی سے متعلق ٹویٹس اور پھر استعفیٰ کی خبروں کی حقیقت بیان کر تے ہوئے بڑے انکشافات کر دیئے ہیں ۔
تفصیلات کےمطابق نجم سیٹھی نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خواجہ آصف کے ایک دوست ہیں، وہ ایک زمانے میں ریٹرننگ افسر تھے ، خواجہ صاحب پر ان کا قرض ہے ، اٹھانا ہے ، وہ اے ڈی سی آر ہیں ، سیالکوٹ میں ایک پراپرٹی پر ایک تنازع چل رہاہے ، جس میں ایک کمپنی ہے ، کچھ بھائی ہیں وہ کاروبار بھی کرتے ہیں ، وہ زمین ان کی ہے، خواجہ صاحب چاہتے تھے کہ وہ زمین ان کو دیدی جائے، مسئلہ بنا ہوا تھا، اے ڈی سی آر نے جا کر ان پر ٹھاپ لگا دی کہ آپ کریں، وہ کیسز بنا کر اے ڈی سی آر کو پکڑ کر لے گئے ، خواجہ صاحب نے کہا یہ کیا ہوگیا، پھر خواجہ صاحب نے دھمکیاں دینی شروع کر دیں ، کہ اسے ریلیز کریں، لوگوں کے اپنے بھی تعلقات ہوتے ہیں، اس کمپنی کے بھی بیوروکریٹس کے ساتھ تعلقات تھے ، انہوں نے ہاتھ پیر مارے اور بندے کو اٹھوا لیا ، کیس ان کا مضبوط ہے ۔
ہم حکومت اور نااہل اپوزیشن کے درمیان پس رہے ہیں: فواد چودھری
نجم سیٹھی نے کہا کہ میر ا خیال ہے کہ خواجہ آصف ناراض ہو گئے ہیں ظاہر ہے انہوں نے اپنے دوست کو بچانا تھا تو انہوں نے شور ڈال دیا، وہ یہی تھا کہ یہ کون ہوتے ہیں اٹھانے والے یہ تو سارے ملے جلے ہیں، انہوں نے کسی کو یہ کہہ دیا کہ یار تو چلا دے کہ میں عہدے سے استعفیٰ دے رہا ہوں ، خود تو نہیں کہہ سکتے تھے ، جب یہ ہوا تو خواجہ آصف کا مقصد پورا ہو گیا، ان کو بلا کر رضا مند کیا گیا کہ خواجہ صاحب چھوڑ بھی دیں، آپ کا بندہ باہر آجاتاہے ، اتنا غصہ کیوں کرتے ہیں، وہ پھر کس نے کیا ہے تو آپ یہ خود ہی سمجھ جائیں کہ وہ کہاں گئے اور کہاں سمجھایا گیا ، جیسے ہی یہ ہوا تو خواجہ آصف نے انکار کر دیا کہ میں نے تو استعفیٰ دیا ہی نہیں ،تو اس طریقے سے یہ گیمز چلتی ہیں، خواجہ آصف نے بیوروکریسی پر جو الزام لگا دیاہے ، وہ غصے میں ایسی باتیں کر جاتے ہیں بعد میں پچھتاتے ہیں، آج کل تو ان کی گود میں ہیں، خواجہ آصف غصے میں بڑی باتیں کر جاتے ہیں اور بعد میں کہتے ہیں کہ میرا تو یہ مقصد ہی نہیں تھا۔
وزیراعظم کا201یونٹس پر اضافی بل پر صارفین کی شکایات کا نوٹس،کمیٹی بنانے کا فیصلہ
خواجہ صاحب کے دوست ریٹرننگ افسر بھی رہ چکے ہیں اور خواجہ صاحب ان کے " مقروض " ہیں سیالکوٹ میں ایک زمین ہے خواجہ آصف کی خواہش تھی کہ وہ انہیں مل جائے جن کی زمین تھی ADCR نے انہیں جا کر ٹھاپ لگا دی اس وجہ سے ADCR پکڑا گیا اور خواجہ صاحب ناراض ہو گئے ! نجم سیٹھی ۔۔ pic.
مزید :
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: اے ڈی سی ا ر خواجہ صاحب خواجہ ا صف نجم سیٹھی انہوں نے
پڑھیں:
بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
امریکہ کی ریاست ایڈاہو کے ایک خاموش اور خوبصورت پہاڑی علاقے سن ویلی(Sun Valley) میں ہر سال جولائی کے مہینے میں ایک ایسی تقریب ہوتی ہے جہاں دنیا کے امیر ترین اور بااثر افراد اکٹھے ہوتے ہیں۔
اس خاص اور خفیہ محفل کو غیر رسمی طور پر ”ارب پتیوں کا سمر کیمپ“ کہا جاتا ہے۔ یہاں دنیا کے نامور اور طاقتور لوگ جیسے جیف بیزوس، مارک زکربرگ، بل گیٹس اور ایلن مسک بغیر کسی دکھاوے کے ایک ساتھ وقت گزارتے ہیں۔
یہ سلسلہ 1983 سے چلا آ رہا ہے جسے ایلن اینڈ کمپنی نامی ایک معاشی ادارہ منعقد کرواتا ہے۔ اس تقریب میں شامل ہونے کے لیے کوئی ٹکٹ نہیں خریدی جا سکتی اور نہ ہی انٹرنیٹ پر کوئی رجسٹریشن ہوتی ہے۔ یہاں صرف وہی لوگ آ سکتے ہیں جنہیں ذاتی طور پر دعوت نامہ بھیجا جاتا ہے۔ منتظمین کی طرف سے اس تقریب کی کوئی باقاعدہ مہمانوں کی فہرست یا شیڈول جاری نہیں کیا جاتا۔ اس سال یہ تقریب 7جولائی سے 11 جولائی 2026 تک منعقد ہوئی۔
اس کانفرنس کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ روایتی دفتری میٹنگز کی طرح نہیں ہوتی۔ یہاں نہ طویل اجلاس ہوتے ہیں اور نہ ہی بڑی بڑی پریزنٹیشنز۔
امیر ترین شخصیات سوٹ بوٹ پہننے کے بجائے عام جوتوں اور آرام دہ کپڑوں میں نظر آتی ہیں۔ لوگ دن کے وقت پہاڑوں پر سیر کرتے ہیں، گولف کھیلتے ہیں، سائیکل چلاتے ہیں، مچھلی پکڑتے ہیں اور شام کو مل کر کھانا کھاتے ہیں۔
مزیدپڑھیں:عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
اس سال کی ملاقات میں جدید ترین ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس یعنی اے آئی کا موضوع سب سے زیادہ چھایا رہا۔ اس تقریب میں ٹیکنالوجی اور کاروبار کی دنیا کے کئی بڑے نام شامل ہوئے۔
اگرچہ اس کیمپ میں میڈیا اور کیمروں کی اجازت نہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی بڑا باضابطہ اعلان کیا جاتا ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے کئی بڑے کاروباری معاہدوں کی بنیاد اسی خاموش جگہ پر رکھی جاتی ہے جو بعد میں دنیا کے سامنے آتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت سے شرکا اپنے اہلِ خانہ کو بھی ساتھ لاتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ تقریب ایک کاروباری اجلاس سے زیادہ ایک پُرتعیش خاندانی تعطیلات کا منظر پیش کرتی ہے۔ تاہم، اس کے باوجود دنیا بھر کی نظریں ہر سال اس خفیہ سمر کیمپ پر لگی رہتی ہیں، کیونکہ یہاں ہونے والی ملاقاتیں مستقبل کی عالمی معیشت اور ٹیکنالوجی کی سمت کا تعین بھی کر سکتی ہیں۔