الیکشن کمیشن کی مالی سال 25-2024 کے گوشوارے 29اگست تک جمع کروانے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 8th, August 2025 GMT
اسلام آباد:
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سیاسی جماعتوں کو مالی سال 25-2024 کے گوشوارے 29 اگست تک جمع کروانے کی ہدایت کر دی۔
تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہان کو الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعہ 204 اور 210 اور الیکشن رولز 2017 کے قاعدہ 159 اور 160 کے تحت جون 2025 میں ختم ہونے والے مالی سال 25-2024 کے لیے اپنے اکاؤنٹس کے مربوط گوشوارے 29 اگست تک جمع کروانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعہ 210 کا متن ہے کہ ہر سیاسی جماعت مالی سال کے اختتام کے 60 دن کے اندر کمیشن کو اپنے گوشوارے فارم-ڈی پر چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کے ذریعے تفصیلات کے ساتھ پیش کرے گی، جس میں سالانہ آمدنی اور اخراجات، فنڈنگ کے ذرائع، اور اثاثے اور واجبات شامل ہیں۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے ہدایت کی گئی ہے، پیش کی جانے والی تفصیلات سیاسی جماعت کی آڈٹ رپورٹ جو چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کی طرف سے جاری کی گئی ہو اور پارٹی سربراہ کی جانب سے مجاز عہدیدار سے دستخط شدہ ہو، جس میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہو، گوشواروں کی تفصیلات الیکشن ایکٹ 2017 کے مطابق فارم ڈی پر جمع کروائی جائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ٹرمپ کا ایران سے تحریری وعدے کا مطالبہ!
امریکی ذرائع کے مطابق، بین الاقوامی معاہدوں پر "انتہائی کم عمر دستخط" کے حامل انتہاء پسند امریکی صدر نے اس بار تہران سے "موجودہ تعطل پر قابو پانے کیلئے" تحریری عزم کا مطالبہ کیا ہے اسلام ٹائمز۔ امریکی حکام نیز ایک باخبر ذریعے سے نقل کرتے ہوئے امریکی چینل اے بی سی نیوز نے انکشاف کیا ہے کہ انتہاء پسند امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خواہش ظاہر کی ہے کہ تہران اس مرتبہ، "امریکہ کے ساتھ ابتدائی معاہدے" کے طور پر، مخصوص جوہری رعایتیں تحریری انداز میں پیش کرے۔ اے بی سی کے ذرائع نے تفصیلات فراہم کئے بغیر دعوی کیا کہ ایرانی مذاکراتکاروں نے پہلے زبانی طور پر اس بات کی ضمانت دی تھی کہ تہران بالآخر اپنے "جوہری پروگرام" سے متعلق کچھ شرائط پر راضی ہو جائے گا لیکن امریکی صدر نے جمعے کے روز سیچویشن روم میں ہونے والی ملاقات میں یہ نتیجہ اخذ کیا کہ یہ وعدے کافی مضبوط نہیں۔
ادھر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے منگل کے روز سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سامنے اپنی رپورٹنگ کے سیشن کے دوران کسی بھی معاہدے پر پہنچنے سے قبل، ایران سے ٹرمپ انتظامیہ کی توقعات کی تفصیلات بتائی ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کے دیگر اہلکاروں کی طرح ایران کے لئے گوناگوں شرائط بیان کرتے ہوئے، واشنگٹن کی جانب سے تہران کو دی جانے والی مراعات کے بارے مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ تفصیلات، اور اسی طرح تہران کے لئے مالی مراعات کا تعین بھی بعد میں کیا جائے گا۔ انتہاء پسند امریکی صدر سے نقل کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ مثال کے طور پر، اُنہیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم افزودہ یورینیم کو ضائع کر دیں گے.. اور اب سوال یہ ہے کہ ایسا کرنے کا طریقہ کار کیا ہے؟.. اور یہ بات مذاکرات کے قابل ہے!