فواد خان کیساتھ فلم کرنے والی وانی کپور ہانیہ اور دلجیت کے حق میں بول پڑیں
اشاعت کی تاریخ: 8th, August 2025 GMT
بھارتی اداکارہ وانی کپور نے دلجیت دوسانجھ اور ہانیہ عامر کی فلم کے دفاع میں بیان دیا ہے۔
حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے بعد سردار جی 3 میں پاکستانی اداکارہ ہانیہ عامر کے ساتھ کام کرنے پر پنجابی بھارتی گلوکار و اداکار دلجیت دوسانجھ کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس کی وجہ سے بھارت میں اس فلم کی ریلیز پر پابندی لگا دی گئی ہے۔
سوشل میڈیا پر بھی اس معاملے پر دلجیت دوسانجھ کیخلاف زبردست بائیکاٹ مہم چلائی گئی جو اب تک جاری ہے۔ تاہم جہاں ایک طرف دلجیت پر سخت تنقید کی گئی، وہیں مداحوں سمیت چند ساتھی فنکاروں نے ان کے حق میں آواز بھی بلند کی جن میں بالی ووڈ اداکارہ وانی کپور سرفہرست ہیں۔
ایک حالیہ انٹرویو میں اداکارہ وانی کپور نے دلجیت دوسانجھ کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے کوئی قانون نہیں توڑا۔ انہوں نے این ڈی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ فلم ممکنہ طور پر اس واقعے سے پہلے مکمل کی گئی تھی، جس میں 100 سے زائد تکنیکی عملے نے بھی کام کیا۔
وانی نے مزید کہا کہ دلجیت کی نیت کبھی ملک کی بے احترامی کی نہیں اور وہ ایک عالمی شہرت یافتہ فنکار ہیں اور ان کی سرمایہ کاری اس فلم میں لگی ہوگی جس میں ممکنہ طور پر ان کا نقصان بھی ہوا ہوگا۔
یاد رہے کہ سردار جی 3 کی بھارت میں پابندی پہلگام واقعے اور بھارت کی ناکام فوجی کارروائی "آپریشن سندور" کے بعد لگی ہے، جس کی وجہ سے پاکستان کے ساتھ ثقافتی تبادلے پر سخت موقف اپنایا گیا ہے۔
کئی بھارتی فنکاروں نے دلجیت دوسانجھ کی مخالفت کی اور ان کی فلم کا بائیکاٹ کیا لیکن ناصیر الدین شاہ نے بھی ان کے حق میں کھڑے ہو کر معاملے کو بہتر طریقے سے سلجھانے کی بات کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: دلجیت دوسانجھ وانی کپور
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔