جولائی 2025 میں ترسیلات زر 3.2 ارب ڈالر رہیں، سالانہ بنیادوں پر ترسیلات زر میں 7.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کا اہم اقدام، ترسیلات زر سہولت اسکیم جاری رکھنے کا فیصلہ

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق جولائی 2025 میں کارکنوں کی ترسیلات زر کی مد میں 3.2 ارب امریکی ڈالر موصول ہوئے، جو گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 7.

4 فیصد زیادہ ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق ترسیلات زر کا سب سے بڑا حصہ سعودی عرب سے آیا، جہاں سے 823.7 ملین ڈالر موصول ہوئے۔ اس کے بعد متحدہ عرب امارات سے 665.2 ملین ڈالر، برطانیہ سے 450.4 ملین ڈالر اور امریکا سے 269.6 ملین ڈالر بھیجے گئے۔

یہ بھی پڑھیں:گزشتہ مالی سال میں ترسیلات زر ریکارڈ بلند سطح پر، وزیراعظم کا اظہار تشکر

اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی طرف سے ترسیلات زر میں یہ اضافہ معیشت کے لیے حوصلہ افزا ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news اسٹیٹ بینک پاکستان ترسیلات زر سمندر پار پاکستانی

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسٹیٹ بینک پاکستان ترسیلات زر سمندر پار پاکستانی ترسیلات زر ملین ڈالر

پڑھیں:

پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (Pakistan Institute of Development Economics) نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے ملک میں کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی ہے، جسے موجودہ معاشی حالات اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناظر میں ایک اہم پالیسی تجویز قرار دیا جا رہا ہے۔

پائیڈ کی جانب سے جاری کردہ شواہد پر مبنی فریم ورک کے مطابق کم از کم اجرت میں اضافہ صرف ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک وسیع معاشی اور سماجی ضرورت ہے، جو گھریلو سطح پر قوتِ خرید، غربت میں کمی، غیر رسمی روزگار کے رجحانات اور مجموعی معاشی استحکام پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر مالی سال 2026-27 کے لیے کم از کم اجرت 45 ہزار روپے ماہانہ مقرر کی جاتی ہے تو یہ موجودہ 40 ہزار روپے کی سطح کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافہ ہوگا۔ اس اضافے کو محنت کش طبقے کی مالی مشکلات میں کمی اور ان کی معاشی استعداد بہتر بنانے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

پائیڈ کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ کم از کم اجرت کی پالیسی کو محض لیبر ڈپارٹمنٹ تک محدود نہیں رکھا جا سکتا، کیونکہ اس کا تعلق براہ راست عام شہریوں کی روزمرہ زندگی، مہنگائی کے دباؤ اور مقامی مارکیٹ کی طلب سے جڑا ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اجرت میں مناسب اضافہ نہ صرف مزدور طبقے کے معیارِ زندگی کو بہتر بنا سکتا ہے بلکہ پیداواری عمل میں بھی مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔

مزیدپڑھیں:حکومت کا ریئل اسٹیٹ پیکیج تیار، فروخت پر ٹیکس 4.5 فیصد سے 1.5 فیصد تک لانے کی تجویز

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026 کے جولائی سے اپریل تک اوسط مہنگائی کی شرح تقریباً 6.19 فیصد رہی، تاہم اپریل 2026 میں سالانہ بنیاد پر مہنگائی بڑھ کر 10.9 فیصد تک پہنچ گئی، جس نے عام شہریوں کی قوتِ خرید کو مزید متاثر کیا۔

 موجودہ معاشی صورتحال میں اجرتوں میں اضافہ ایک متوازن پالیسی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ کاروباری لاگت اور روزگار کے مواقع پر بھی اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہوگا۔

پائیڈ کی سفارش کے بعد اب یہ معاملہ حکومتی سطح پر غور کے لیے پیش کیا جائے گا، جہاں حتمی فیصلہ بجٹ پالیسی کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے ٹیکسوں میں بڑی کمی اور فائلر کیلیےبڑے ریلیف  کی تجاویز
  • پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش
  • امریکا ایران کشیدگی کے اثرات: تیل کی قیمتوں میں تیزی، بٹ کوائن 2 ماہ کی کم ترین سطح پر
  • وفاقی بجٹ 2026-27: پراپرٹی اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو کتنے بڑے ٹیکس ریلیف کا امکان؟
  • بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس میں کتنے فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے؟
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ