انہوں نے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن منصفانہ اور شفاف طریقے سے کام کرنے میں ناکام رہتا ہے تو سیاسی جماعتوں اور بھارت کی عوام کو انتخابات کے بائیکاٹ پر سنجیدگی سے غور و فکر کرنا چاہیئے۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کے معروف عالم دین مولانا خلیل الرحمٰن سجاد نعمانی نے انتخابی ایمانداری، آئینی جوابدہی اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان مضبوط اتحاد کا مطالبہ کیا ہے۔ مولانا سجاد نعمانی نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کو اپنے آئینی مینڈیٹ کے مطابق مکمل ایمانداری، غیر جانبداری اور شفافیت کے ساتھ کام کرنا چاہیئے۔ انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ای سی آئی کو حکومتی دباؤ میں کام کرتے ہوئے دیکھا جا رہا ہے، جس سے جمہوری ڈھانچے کمزور ہو رہے ہیں۔ مولانا سجاد نعمانی نے خصوصی طور پر بہار میں ہو رہے "اسپیشل انٹینسیو ریویژن" مہم کے دوران 65 لاکھ ووٹروں کے ناموں کو ہٹانے پر سنگین اعتراضات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے دستاویزات کا مطالبہ کیا گیا جو بہار کے عام لوگوں کے پاس نہیں ہیں، بہار میں خواندگی اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے، یہ ایک منظم طریقہ ہے جس سے آبادی کے ایک حصے کو ووٹنگ کے حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے اور یہ غیر جمہوری اور شرمناک ہے۔

مولانا سجاد نعمانی نے خبردار کیا کہ اگر الیکشن کمیشن منصفانہ اور شفاف طریقے سے کام کرنے میں ناکام رہتا ہے تو سیاسی جماعتوں اور بھارت کی عوام کو انتخابات کے بائیکاٹ پر سنجیدگی سے غور و فکر کرنا چاہیئے، جو ایک پرامن اور آئینی احتجاج کا طریقہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ادارے جمہوریت کا تحفظ نہ کریں تو عوام کو کرنا ہوگا۔ بہار اسمبلی انتخابات پر تبصرہ کرتے ہوئے مولانا سجاد نعمانی نے کہا کہ ریاست کی اسٹریٹجک اہمیت ہے اور بہار کو بی جے پی سے بچانا پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہوگیا ہے۔ مولانا سجاد نعمانی نے راہل گاندھی کی پارلیمنٹ میں حالیہ خطاب کی بھرپور تعریف کی اور اسے "جرأت مندانہ، تاریخی، اور سچائی سے بھرپور" قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح سے راہل گاندھی نے آئینی سالمیت، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور جمہوری پسماندگی کے مسائل کو اٹھایا ہے، وہ حقیقی قیادت کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی نے راہل کو سیاسی فائدہ کے لئے مسلمانوں سے دوری بنانے کا مشورہ دیا ہے، تو یہ اُنکی غلط فہمی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: مولانا سجاد نعمانی نے انہوں نے کہا کہ کرتے ہوئے کہ اگر

پڑھیں:

امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔

دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔

دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔

دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا