لاہور کی شدید گرمی اور حبس کا موسم اور اوپر سے کسی تکنیکی مسئلے کی وجہ سے کمرے کا پنکھا تک بند ہوچکا تھا، ایسے میں انٹرویو لینا اور نوٹس لکھنا آسان کام نہیں تھا، مگر میری پوری توجہ سامنے بیٹھی علمی شخصیت کی طرف تھی، اندازہ تھا کہ ان سے انٹرویو کا وقت دوبارہ ملنا ممکن نہیں ہوگا، ویسے بھی وہ زیادہ تر عرصہ پاکستان سے باہر رہتی ہیں۔ یہ عالمی شہرت یافتہ  اسکالر، مورخ، استاد ڈاکٹر عائشہ جلال تھیں۔ سوالات مختلف زاویوں سے ہو رہے تھے، یکایک موضوع ممتازبھارتی اسکالر، سیاستدان اور تحریک آزادی کے اہم رہنما مولانا آزاد کی طرف چلا گیا۔

ڈاکٹر عائشہ جلال نے انگلی سے اپنا چشمہ درست کیا اور مضبوط لہجے میں گویا ہوئیں، ’مولانا ابوالکلام آزاد برصغیر کے اہم رہنما تھے۔ انہوں نے علمی و دینی کام تو خوب کیا مگرسیاسی طور پر ناکام رہے۔ انہوں نے اپنے اور دوسرے لوگوں کے ساتھ ایک زیادتی یہ کی کہ اپنی آپ بیتی میں بہت سی باتیں چھپا لیں۔ وہ اندرون خانہ سیاست کے بارے میں بہت کچھ جانتے تھے لیکن انہوں نے اس کی بابت بہت کم لکھا۔ مثلاً انہوں نے نہرو کا دفاع کیا اور ان کی غلطیاں بیان نہ کیں۔ حالانکہ یہ نہرو ہیں جن کی وجہ سے پنجاب اور بنگال کی تقسیم عمل میں آئی، قائداعظم ایسا نہیں چاہتے تھے۔ مولانا آزاد وہ واحد شخص تھے،جو کانگریس کی ٹاپ قیادت میں موجود تھے۔انہیں اچھی طرح معلوم ہوگا کہ پنڈت نہرو کا کیا کردار رہا،بدقسمتی سے مولانا تاریخ کا قرض نہیں اتار سکے اور وہ تمام راز اپنے ساتھ لے کر قبر میں چلے گئے۔ان کی کتاب انڈیا ونزفریڈم کے جو 30 صفحات ان کی وفات کے 30 سال بعد کھولے گئے، ان میںبھی کوئی خاص بات نہیں۔ میں نے ایک بار مولانا آزاد کی قریبی عزیزہ سے یہ بات کہی کہ تاریخ سے دلچسپی رکھنے والوں کو مولانا آزاد سے یہ شکوہ ہمیشہ رہے گا کہ انہوں نے تاریخ کا قرض نہیں اتارا اور جو کچھ وہ بتا سکتے تھے، نہیں بتایا‘۔

یہ بھی پڑھیں: بگ برادر سے بگ باس تک

اگست آزادی کا مہینہ ہے، اس حوالے سے کچھ چیزیں دیکھ رہا تھا کہ ڈاکٹر عائشہ جلال  کے انٹرویو کے نوٹس اور مسودہ سامنے آیا۔ مجھے لگا کہ وی نیوز کے قارئین کے لیے ڈاکٹر عائشہ جلال کی باتیں دلچسپی کی حامل ہوں گی۔ ایک پختہ کار ریسرچ اسکالر کی طرح ڈاکٹر عائشہ جلال کی باتیں مدلل اور ٹھوس حقائق کے گرد گھومتی ہیں۔ وہ سنی سنائی باتوں کو اہمیت نہیں دیتیں اور اپنے نتائج کے لیے دستاویزی ثبوت اور ریکارڈز ہی کو واحد پیمانہ مانتی ہیں۔ ڈاکٹر عائشہ جلال نے کیمبرج اور ہاورڈ یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی، کئی اعزاز حاصل کئے، پچھلے 20،25 برسوں سے وہ امریکا کی مشہور ٹفٹ یونیورسٹی میں تاریخ پڑھا رہی ہیں۔ وہ پاکستان اور دیگر موضوعات پر کئی کتابوں کی مصنفہ بھی ہیں۔ ان کا کیمبرج میں پی ایچ ڈی کا مقالہ قائداعظم پر ہے، ’سول اسپوکس مین‘، یہ کتابی صورت میں شائع ہوچکا ہے۔ ڈاکٹر عائشہ جلال کا تعلق سعادت حسن منٹوکے گھرانے سے ہیں، وہ منٹو کے بھانجے حامد جلال کی صاحبزادی ہیں۔ منٹو کے کام سے محبت اور کرکٹ سے دلچسپی انہیں اپنے مرحوم والد سے ورثے  میں ملی، حامد جلال قومی کرکٹ ٹیم کے مینجر بھی رہے تھے۔

میں نے ان سے چند ایک ایسے سوالات کیے جو پاک بھارت سیاست میں بہت زیادہ ڈسکس ہوتے ہیں۔ پہلا سوال پاکستان میں جمہوریت کے نہ پنپنے کے حوالے سے تھا۔

پاکستان میں جمہوریت مضبوط کیوں نہ ہوئی؟

میرا سوال تھا، کیا وجہ ہے کہ بھارت میں تو جمہوریت مستحکم ہوگئی، جبکہ پاکستان میں جمہوریت نہ پنپ سکی؟ ڈاکٹر عائشہ جلال نے اس کا بے لاگ تجزیہ کرتے ہوئے کہا، ’ایک اہم وجہ یہ ہے کہ تقسیم ہند کے وقت پاکستان کو نئے سرے سے تعمیر کرنا پڑا۔ مثلاً ہمیں صرف ایک تہائی فوج ملی اور  17 فیصد اثاثے ملے۔ یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ درحقیقت ہمیں اپنے تناسب کے حساب سے فوج پر اتنا خرچ کرنا پڑا جتنا بھارت اپنی فوج پر کر رہا تھا،تاہم اسے اسی فیصد سے زیادہ اثاثے ملے تھے۔پھر ساری صنعتیں بھارت میں رہ گیئں اور کاروبار بھی۔بھارت میں سیاسی نظام اس لیے بھی پھلا پھولا کہ انھیں مرکز سمیت سب کچھ بنا بنایا مل گیا۔ یوں بھارتی سیاست دانوں کو حکومت کرنے میں مشکلات پیش نہیں آئیں‘۔

دوسری طرف ہمیں اپنا مرکز ازسرنو بنانا پڑا۔ پھر بھارتی حملے کا بھی خطرہ تھا۔ اوپر سے مسئلہ کشمیر پیدا ہوگیا۔ ان وجوہ کی بنا پر فوج اور بیورو کریسی کی اہمیت زیادہ بڑھ گئی اور سیاست داں پس پشت چلے گئے۔ اس زمانے میں پاکستانی حکومت کے پاس پیسہ نہیں تھا۔ اس نے پہلے برطانیہ سے امداد مانگی، وہاں سے انکار ہوا تو امریکا پہنچ گئے۔ بھارت میں بھی سیاسی جماعتوں کے مابین بڑی لڑائیاں ہوئیں، لیکن مرکز مضبوط تھا لہٰذا یہ کشمکش سیاسی نظام کو نقصان نہ پہنچا سکی۔ تیسری اہم بات یہ کہ بھارتی سیاست دانوں نے اپنی لڑائیوں میںکبھی فوج کو ملوث نہیں کیا اور جنرلوں کو خود سے دور رکھا۔ اس باعث وہاں جمہوریت خوب پھلی پھولی۔ پاکستان میں فوج اور بیوروکریسی نے مل کر سیاست دانوں کو پرے کیا اور خود حکومت سنبھال لی۔

آئین بننے میں تاخیر کی وجہ مشرقی پاکستان کا خوف بھی تھا

ڈاکٹر عائشہ جلال کے تجزیے کے مطابق اگر پاکستان میں جمہوری نظام صحیح معنوں میں رائج ہوتا،تو حکومت مشرقی پاکستانیوں کے پاس جانی تھی کیونکہ انہی کی اکثریت تھی۔ اسی لیے مغربی پاکستان کے سیاستدانوں نے آئین تیار کرنے میں 8،9 سال لگا دیے۔ بھارتیوں نے تو 2 ہی سال میں اپنا آئین تیار کر لیا۔ پاکستان میں عدلیہ بھی طاقت ور نہ ہو سکی، نظریہ ضرورت نے ابتداہی میں اس کی طاقت سلب کر لی۔ جو حکمران آیا‘ اس نے عدلیہ کو اپنے اشاروں پر چلانا چاہا۔ بدقسمتی سے بیشتر جج بھی حکمرانوں کا کہا مانتے رہے۔ مثلاً جسٹس منیر کا کہنا تھا کہ اگر وہ حق و انصاف پر مبنی فیصلہ سنا بھی دیتے تو اس پر عمل درآمد کون کراتا؟ حالانکہ انہیں چاہیے تھا کہ بحیثیت جج  صدق دل و دلیری سے صرف اپنا کام کرتے۔۔۔ وہ یہ نہ دیکھتے کہ فیصلے پر عمل درآمد ہوتا ہے نہیں۔ اگر حکومت کے سب ہی ستون اس نقطہ نظر سے کام کرتے رہتے، تو آگے حالات بہتر ہو جاتے۔ افسوس  ایسا نہ ہو سکا۔ پاکستان ایک ایسے سیاست داں نے بنایا جو قانون و آئین کے انتہائی پابند تھے۔ قائداعظم ہر معاملے میں قانون کی راہ اپناتے تھے۔ وہ نئے ملک میں جمہوری نظام قائم کرنا چاہتے تھے، لیکن ہوا یہ کہ ان کے بعد جو بھی حکمران بنا‘ اس نے اپنا قانون تخلیق کیا اور عوام پر ٹھونس دیا۔ شہری سیاست دانوں نے بھی یہی دیکھا کہ ملک چلانے میں ان کا کیا فائدہ ہے۔ یاد رہے، تاریخی طور پر جاگیرداری یورپ میں معاشی نظام کا ایک روپ تھا۔ پاکستان آ کر  جاگیرداری ’شخصی حکومت‘ میں بدل گئی۔ شہروں کے متوسط طبقے نے بھی بوجوہ اسے پسند کیا۔ ہر شخصی حکومت میں قانون پامال ہوتا چلا گیا۔ حکمران جرنیل ہو یا جاگیردار یا کوئی سیاست داں‘ سبھی نے قوانین روند ڈالے۔

قائداعظم برصغیر کے عظیم ترین رہنما تھے

میں نے سوال کیا، آپ برصغیر ہندو پاک کے سیاست دانوں میں آپ کن سے زیادہ متاثر ہیں؟ ڈاکٹر عائشہ جلال نے  کسی لگی لپٹی کے بغیر جواب دیا۔ ’پچھلے ایک سو برس کے دوران جنوبی ایشیا میں کئی عظیم سیاست داں پیدا ہوئے ہیں۔ ان میں سے کسی ایک کو دوسرے پر فوقیت نہیں دی جا سکتی۔ مثال کے طور پر موہن داس گاندھی کمال کے آدمی تھے۔ انہوں نے آخر انگریزوں کو ہندوستان چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ مولانا آزاد ایک اہم شخصیت تھے۔ پنڈت نہرو کا خاصا کام ہے، مگر میرے خیال میں وہ تقسیم ہند کے اصل ذمہ دار تھے۔ میری دیانت دارانہ رائے میں قائداعظم برصغیر کے عظیم ترین رہنما تھے۔ ان جیسا قانون کا پابند اور اصول پسند کوئی دوسرا نظر نہیں آتا۔

’قائداعظم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ مطلق العنان تھے اور انہوں نے گورنر جنرل بن کر آمرانہ اقدامات کیے۔ اس ضمن میں یہ بات ذہن میں رکھیے کہ وہ ایک نو آزاد مملکت کے حکمران تھے۔ اس وقت حکومت چلانے کے لیے آمرانہ انداز اپنانا مجبوری تھی۔ لیکن قائداعظم نے ہمیشہ قانون و آئین کے دائرے میں رہ کر کام کیا۔ ان کے بارے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا کہ وہ ذاتی مفادات کے لیے آئین کو توڑ مروڑ دیتے۔ ویسے برٹش نظام کی رو سے گورنر جنرل ہی بااختیار تھا۔ یہ نظام آہستہ آہستہ ہی بدلا جانا تھا‘ فوراً بدلنے سے نئے مسائل پیدا ہو جاتے‘۔
ماؤنٹ بیٹن کو مشترکہ گورنر جنرل کیوں نہ بنایا گیا؟

مزید پڑھیے: سانحہ بلوچستان: قاتلوں کو تاویل کی رعایت نہ دیں

پاکستان میں بعض سیکولر، لبرل لکھاریوں نے اس حوالے سے بار بار لکھا کہ قائداعظم نے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو مشترکہ گورنر جنرل نہ بنا کر غلطی کی، اگر وہ مشترکہ گورنرجنرل ہوتے تو شائد پاکستان کے ساتھ زیادتی نہ ہوتی، جبکہ ان میں سے بعض ناقدین کا یہ بھی خیال ہے کہ قائداعظم خود ایک طاقتور بااختیار گورنر جنرل بننا چاہتے تھے، اس لیے یہ فیصلہ کیا۔ ڈاکٹر عائشہ جلال سے یہ سوال کیا تو ان کا جواب دلچسپ ہونے کے ساتھ غیر مبہم تھا۔

ڈاکٹر عائشہ نے قائداعظم کے اس فیصلے کو کھل کر سراہا۔ ان کا کہنا تھا،’میرے خیال میں یہ بات درست نہیں کہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو بھارت و پاکستان کا مشترکہ گورنر جنرل بنا دیا جاتا تو شاید ہمارے ساتھ ناانصافی نہ ہو پاتی۔میرے خیال میں یہ بات درست نہیں ہے۔ میں اس پر ایک تفصیلی مضمون لکھ چکی ہوں۔لارڈ مائونٹ بیٹن کانگریس کے  حامی تھے۔ لہٰذا وہ پاکستان کے گورنر جنرل بنتے تو ظاہر ہے، متنازع معاملات میں بھارتی حکومت کی حمایت کرتے۔ قائداعظم اس حقیقت سے خوب واقف تھے۔اس لیے قائداعظم نے انہیں یہ عہدہ دینا پسند نہیں کیا۔

’ایک اور اہم بات یہ ہے کہ قائداعظم پاکستان اور بھارت کو مقتدر اعلی مملکتوں کے روپ میں آزادی دلانا چاہتے تھے۔ مگر کانگریس نہ مانی، اس کا کہنا تھا کہ یونین آف انڈیا سے بعض علاقے کاٹ کر پاکستان بنا دیا جائے‘ جبکہ  یونین آف انڈیا قائم رہے گی۔ ادھر قائداعظم کا اصرار تھا کہ برٹش انڈیا کا جو بین الاقوامی تشخص ہے،وہ صرف بھارت کو نہیں ملنا چاہیے،یہ رائے نہیں مانی گئی۔ پاکستان ایک علیحدہ مملکت بن گیا،جبکہ بھارت کو(یونین آف انڈیا کی) ’جانشین‘ مملکت کا درجہ ملا۔ قائداعظم ایک آئینی جینئس تھے۔ وہ جانتے تھے کہ اگر ماؤنٹ بیٹن دونوں مملکتوں کا گورنر جنرل بنا، تو ازروئے قانون وہ معاملات میں ’جانشین‘ مملکت کی حمایت کرے گا۔ اس معاملے سے قائداعظم کی غیرمعمولی ذہانت اور دور اندیشی نمایاں ہوتی ہے‘۔

کیا قائداعظم نے اپنے ساتھیوں کو کھوٹے سکے کہا تھا؟

میرا ایک اور سوال تھا کہ  قائداعظم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے ساتھیوں کے بارے میں یہ کہا تھا، ’میری جیب میں کھوٹے سکے بھرے ہیں‘۔ (کیا یہ ان کا فقرہ ہے؟

یاد رہے کہ ڈاکٹر مبارک علی کا یہ دعویٰ ہے کہ قائداعظم نے یہ جملہ کہا تھا، تاہم اس کے جواب میں ڈاکٹر صفدر محمود اور کئی دوسرے لوگوں نے بہت تفصیل سے لکھا اور دلائل کے ساتھ ڈاکٹر مبارک کے دعویٰ کو رد کیا۔ ڈاکٹر صفدر محمود مرحوم کا کہنا تھا کہ قائداعظم کے ہاتھ کی لکھی سب چیزیں قائداعظم پیپرز میں جمع ہوچکی ہیں، یہ جملہ مگر وہاں نہیں ملتا۔)

مزید پڑھیں: نیکی کا کوئی عمل معمولی نہیں

ڈاکٹر عائشہ جلال نے اس سوال کے جواب میں ایک لمحے کا تامل کیا اور اپنی مخصوص صاف گوئی سے بولیں، ’میں نے یہ فقرہ پڑھا تو ہے، لیکن اس کی بابت کچھ وثوق سے نہیں کہہ سکتی۔ اگر یہ ان کے ہاتھ سے لکھا ہوا ہوتا تو اور بات تھی۔ اس کا کوئی تحریری ثبوت نہیں ملتا‘۔

(جاری ہے)

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عامر خاکوانی

نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔

ڈاکٹر عائشہ جلال ڈاکٹر مبارک علی سعادت حسن منٹو قائداعظم مولانا ابوالکلام آزاد موہن داس گاندھی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ڈاکٹر عائشہ جلال ڈاکٹر مبارک علی سعادت حسن منٹو موہن داس گاندھی ڈاکٹر عائشہ جلال نے مشترکہ گورنر مولانا ا زاد قائداعظم کے کہ قائداعظم پاکستان میں سیاست دانوں کے بارے میں کا کہنا تھا گورنر جنرل انہوں نے ا سیاست داں بھارت میں پاکستان ا چاہتے تھے کے ساتھ کیا اور نہیں ا تھا کہ یہ بات میں یہ کے لیے

پڑھیں:

جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم

سٹی 42: علیمہ خانم  نے  فیکٹری ناکہ پر میڈیا ٹاک  کرتے ہوئے کہا آج بھی بانی سے ملاقات کے لئے آئے ہیں یہ ہمارا آئینی قانونی حق ہے

علیمہ خانم نے کہااگر آج ملاقات نہ ہوئی تو دیکھیں گے ،اگر بانی کے لئے کھڑے نہ ہوں تو کیا کریں آپکا خیال ہے یہاں کچھ قانون کی مطابق چل رہا ہے،کونسا قانون ہے۔ہم عدلیہ اور آزاد میڈیا کے لئے کھڑے ہیں۔ہم اپنے دفاع میں آپ لوگوں(میڈیا)کو پیش کریں گے۔انکو تو جیل میں ڈالنے کا بہانہ چاہیئے،کس کس کو ڈالیں گے جیل میں۔بانی کہہ چکے کہ پاکستان اسی طرف جا رہا ہے جس طرف نیپال،بنگلہ دیش اور سری لنکا گئے۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

بانی سے سابق آرمی چیف کی ملاقات کے بارے میں بیرسٹر گوہر سے پوچھا تھا ۔بانی سے ملنے کوئی نہیں گیا،یہ فیک ہے،جان بوجھ کر دیا انفارمیشن پھیلا رہے ہیں ۔

جب انکو لگتا ہے ٹمپریچر اوپر جا رہا ہے،اسکو ٹھنڈا کرنے کے لئے یہ باتیں شروع ہو جاتی ہیں ڈیل کی ۔میں نے بیرسٹر گوہر سے محسن نقوی کی ملاقات کا پوچھا تھا تو انھوں نے کہا تھا کہ ملے ہیں ۔

بیرسٹر گوہر ن نے کہا محسن نقوی کہتے ہیں کہ کل آپ کی ملاقات کروا دیتے ہیں ۔میں نے کہا وہ جھوٹ بولتے ہیں آپ ان کو کہیں کہ وہ بانی کو اسپتال میں علاج کروائیں۔بیرسٹر گوہر کو کہا تھا کہ آپ نے ملاقات کرنی ہوتو ہم سب کو بتا دو،اسی طرح ہونا چاہیئے ۔کچھ نہیں ہو رہا،اپکو نظر آرہا ہے کہ کچھ ہو رہا ہے ۔یہ خوف سے بھرے ہوئے ہیں،یہ خوف نظر نہیں آرہا،اج سڑک پر کرفیو لگا دیا ہے ۔وہ کہتے ہیں بشری بی بی کی بیٹی سے ملاقات کے بعد سوال میں پوچھنا ۔انکا مطلب یہ ہے کہ بانی کی صحت کے بارے میں نہیں پوچھنا ۔مجھے نہیں پتہ یہ ملاقاتیں کس مقصد کے لئے ہوتی ہیں۔ہمیں یہ پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے ہیں،حکومت یہ چیزیں کرکے اپنا خوف دکھا رہی ہے ۔نئی سیاست بانی کو رہا کروانا ہے،جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا 

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

جب آپ ووٹ چوری کرو گے تو اسکے نتائج کیا ہوں گے؟جب وہ بے بسی محسوس کریں گے آپ جان جان کے جھوٹے الیکشن کروا گے،لاٹھی چارج کرو،یہ ڈرامہ کر رہے ہو،ظلم کر رہے ہیں۔آپ انکے امیدواروں کو مار رہے ہو یہ خوفزدہ لوگ کرتے ہیں ۔یہ پی ٹی آئی کا نہیں لوگوں کا حق ہے،آپ نے کسی کو گرفتار کرلیا،کسی کو جہاز نہیں چڑھنے دیا کیا فرق پڑا ۔ان کے پیچھے عوام نہ کھڑی ہو وہ یہی کرتے ہیں ۔ظلم وہ کرتا ہے جسکے ساتھ عوام نہیں ہوتی ۔وہ بانی کو کہہ رہے ہیں منہ بند رکھو،

 نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ

ایران کو دیکھ لیں لیڈر قربانیاں دے رہے یہ انکے لئے نارمل چیز ہے ۔بانی اپنی جان کی قربانی دینے کو تیار ہے،وہ ان لوگوں کے ساتھ کیا ڈیل کرکے نکلے گا ۔ڈیل ایک ہی ہے آزاد عدلیہ،ازاد اور منصفانہ انتخابات  ۔آپ عدلیہ ازاد کریں،ازاد منصوبہ انتخابات کون یقینی بناتا ہے آزاد عدلیہ۔

افغانستان اور پاکستان کے دونوں اطراف رشتے دار ہیں ،بانی کہتے ہیں یہ حکومت انکے فیور میں ہے،یہ جان جان کر اس حکومت سے چھیڑا چھاڑی کررہے ہیں ۔اپنے ہمسائے کے ساتھ بہت اچھا بنا کر رکھنی چاہیئے۔

 آزاد کشمیر:تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان

افغانستان اپنی زاد خارجہ پالیسی کے تحت روس،چین کے ساتھ معاہدے کرکے ملک کر ترقی کی جانب لیکر جا رہے ہیں ۔آپ نے بارڈر اور ایکسپورٹ بند کرکے ملک بلین ڈالرز کا نقصان کردیا۔ ہم انکے ساتھ ایکسپورٹ بند کریں گے وہ ایران سے لے لیں گے،ایران کی ایکسپورٹ بڑھ جائے گی ۔وہ پارٹیاں نہیں لوٹ مار کی کمپنیاں ہیں،

ہم بھائی کے لئے کھڑے ہیں ہر چیز کریں گے ۔اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو بانی سے سلیکٹ کیا،کہ وہ میچور سیاستدان ہیں ۔سیدھی سے بات ہے جو انکا قانونی حق ہے وہ دے دیں ۔ بانی کو بھی پتہ ہے ان پر پریشر ڈالیں گے تو میز پر بیٹھیں گے

لاہور بورڈ کا بڑا فیصلہ، داخلہ فارم مکمل طور پر آن لائن کرنے کی تجویز

متعلقہ مضامین

  • کشمیر کا وہ گاوٴں جس کے باسی فون چارج کرنے کے لیے 45 کلومیٹر دور جاتے ہیں
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • ہمیں پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے ہیں، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟