شادی کا جھانسہ دیکر ملازم نے اپنی کمپنی کی ایچ آر منیجر کا ریپ کردیا، ملزم گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 10th, August 2025 GMT
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 اگست 2025ء ) راولپنڈی میں شادی کا جھانسہ دے کر کمپنی کی ایچ آر منیجر کا ریپ کرنے والے ملزم کو پولیس نے گرفتار کرلیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق راولپنڈی میں شادی کا جھانسہ دے کر خاتون سے زیادتی اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے والا ملزم گرفتار کرلیا گیا ہے، ملزم کو پیرودہائی پولیس نے گرفتار کیا جس کے ساتھی دوسرے ملزم کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں اس مقصد کیلئے پولیس نے کئی مقامات پرط چھاپے مارے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان متبصر حسین اور شایان بخاری کی جانب سے ملک رضا کی سرپرستی میں نجی کمپنی کی ایچ آر منیجر کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، پولیس نے کمپنی کے ملازم متبصر حسین کو گرفتار کرلیا، اس کے علاوہ متاثرہ خاتون کا میڈیکل بھی کروا لیا گیا۔(جاری ہے)
علاوہ ازیں ایک اور کیس میں راولپنڈی میں پیرودھائی پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے 14 سالہ لڑکی سے زیادتی کرنے والے ملزم کو گرفتار کر لیا، ترجمان راولپنڈی پولیس نے بتایا کہ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی ٹیم نے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لاتے ہوئے ملزم کو حراست میں لے لیا، متاثرہ لڑکی کا میڈیکل معائنہ مکمل کر لیا گیا ہے تاکہ شواہد کو قانونی طور پر محفوظ بنایا جا سکے۔
پولیس حکام نے بتایا کہ ملزم کے خلاف ٹھوس شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں اور اسے باقاعدہ چالان تیار کر کے عدالت میں پیش کیا جائے گا، خواتین اور بچوں کے ساتھ زیادتی یا تشدد کے واقعات کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے، ایسے جرائم میں ملوث عناصر کو قانون کے مطابق سخت سے سخت سزا دلوانے کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے گا تاکہ معاشرے میں خواتین اور بچوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ .
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے گرفتار کر پولیس نے ملزم کو
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔