یوم آزادی تقریبات، سیکیورٹی خدشات کے باعث مری میں دفعہ 144 نافذ
اشاعت کی تاریخ: 10th, August 2025 GMT
مری میں یوم آزادی کی تقریبات کے دوران سیکیورٹی خدشات کے باعث 3 دن کے لیے دفعہ 144 نافذ کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں، اس دوران صرف فیملیز کو مری میں داخلے کی اجازت ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: رواں برس یوم آزادی پاکستان ’معرکہ حق‘ کے عنوان سے منانے کا فیصلہ
ڈپٹی کمشنر مری آغا ظہیر عباس شیرازی کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ یوم آزادی کی تقریبات کے موقع پر عوامی نظم و ضبط قائم رکھنے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے 12، 13 اور 14 اگست 2025 کو مال روڈ اور جی پی او چوک پر صرف خاندانوں کو داخلے کی اجازت دینے کا حکم جاری کردیا۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ 30 جولائی کو منعقدہ ڈسٹرکٹ انٹیلیجنس کمیٹی کی سفارش پر کیا گیا، جس میں یومِ آزادی کی تقریبات کے دوران ممکنہ ہجوم اور بد نظمی کو مدنظر رکھا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: 14 اگست کو یوم آزادی یا یوم احتجاج، پی ٹی آئی قیادت کیا سوچ رہی ہے؟
حکمنامے کے مطابق اس دوران دفعہ 144 نافذ العمل ہو گی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 188 کے تحت کارروائی کی جائے گی۔
ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ حکم کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی اس دوران کی گئی خلاف ورزیوں پر عدالتی کارروائی جاری رہے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news آغا ظہیر عباس شیرازی دفعہ 144 ڈپٹی کمشنر سیکیورٹی خدشات مری نوٹیفکیشن یوم آزادی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آغا ظہیر عباس شیرازی ڈپٹی کمشنر سیکیورٹی خدشات نوٹیفکیشن یوم ا زادی یوم ا زادی
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔