مری، یوم آزادی تقریبات پر ہنگامہ آرائی سے بچنے کیلئے سیکشن 144 نافذ
اشاعت کی تاریخ: 10th, August 2025 GMT
ڈپٹی کمشنر کے مطابق 12، 13 اور 14 اگست کو مال روڈ اور جی پی او چوک صرف فیملیز کیلئے کھلے رہیں گے، سیکشن 144 کی خلاف ورزی پر کارروائی ہوگی، مقدمات درج ہوں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ملکہ کوہسار مری میں یوم آزادی تقریبات پر ہنگامہ آرائی سے بچنے کیلئے سیکشن 144 نافذ کردی گئی ہے۔ ڈپٹی کمشنر کے مطابق 12، 13 اور 14 اگست کو مال روڈ اور جی پی او چوک صرف فیملیز کیلئے کھلے رہیں گے، سیکشن 144 کی خلاف ورزی پر کارروائی ہوگی، مقدمات درج ہوں گے۔جاری نوٹیفکیشن کے مطابق مال روڈ اور جی پی او چوک میں 3 روز کیلئے غیر ضروری عوامی داخلہ ممنوع قرار دیدیا گیا ہے۔ خلاف ورزی پر سزا تعزیرات پاکستان کی دفعہ 188 کے تحت ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سیکشن 144
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔