گلگت: دنیور نالے میں تودے گرنے سے 8 رضاکار ملبے تلے دب کر جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 11th, August 2025 GMT
گلگت:
دنیور نالے میں تودے گرنے کے باعث 8 مقامی رضاکار ملبے تلے دب کر جاں بحق ہوگئے جبکہ متعدد کے پھنسے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ میں پولیس ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ مقامی رضاکار سیلاب سے متاثرہ واٹر چینل کی مرمت اور بحالی میں مصروف تھے کہ اچانک مٹی کا ایک بڑا تودہ گر گیا، جس کی زد میں آ کر کئی افراد دب گئے۔
اسپتال ذرائع کے مطابق حادثے میں جاں بحق ہونے والے تمام افراد کا تعلق مقامی رضاکار ٹیم سے ہے جب کہ 3 زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ مزید افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے اور مقامی آبادی بھی امدادی سرگرمیوں میں حصہ لے رہی ہے۔
ضلعی انتظامیہ نے متاثرہ اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔
ترجمان صوبائی حکومت نے بتایا کہ گلگت بلتستان میں موسمیاتی تبدیلیاں شدت اختیار کر چکی ہیں، گلیشیئر پگھلنے سے مختلف نالوں میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا ہے، جس کے نتیجے میں شیشپر نالے میں سیلاب آیا اور قریبی آبادیوں کی زمینوں کو شدید نقصان پہنچا۔ کھیت، باغات اور درخت بہہ گئے جب کہ قراقرم ہائی وے کا ایک حصہ بھی متاثر ہوا، جس کے بعد شاہراہ ہنزہ دوبارہ بند کر دی گئی ہے۔
شاہراہ قراقرم کے کٹاؤ کے باعث ہنزہ جانے والے ٹریفک کو متبادل راستے نگر روڈ سے گزارا جا رہا ہے۔ حکام نے ممکنہ مزید بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے خدشے کے پیش نظر شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت بھی دی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک