لاہور؛ مارکیٹوں میں واردات کرنے والا 5 رکنی خواتین گینگ پکڑا گیا، ویڈیو سامنے آ گئی
اشاعت کی تاریخ: 11th, August 2025 GMT
لاہور:
گوالمنڈی چوکی میو اسپتال پولیس نے ایک کارروائی کرتے ہوئے لاہور کے مختلف علاقوں میں وارداتیں کرنے والے خواتین کے 5 رکنی گینگ کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق 5 رکنی خواتین گینگ دکانوں اور مارکیٹوں میں وارداتیں کرتا ہے۔ تازہ واردات میں ملزمہ میو اسپتال علاج معالجے کے لیے آئی اور خواتین کے بیگ اور موبائل چوری کرتی رہی۔ ملزمان خواتین دوران واردات اسلحہ کا بھی استعمال کرتی رہیں۔
سی سی ٹی وی فوٹیج میں خواتین کو واردات اور اس کے بعد فرار ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔ چوکی میو اسپتال پولیس نے خواتین پر مشتمل گینگ کو بروقت کارروائی کرکے واردات کی منصوبہ بندی ناکام بنا دی۔
ایس پی سٹی کے مطابق ملزمان خواتین ایک ساتھ دکان میں داخل ہوتی تھیں۔ ایک ملزمہ دکاندار کو خرید وفروخت میں الجھاتی اور باقی ساتھی اشیا چوری کرتی تھیں۔ مناواں کے علاقے میں بھی خواتین کے اسی گروہ نے دکان میں گھس کر اسلحہ کے زور پر واردات کی تھی۔
ریکارڈ یافتہ خواتین پر مشتمل یہ گروہ الیکٹرونکس و ہارڈویئر کی دکانوں کو نشانہ بناتا تھا۔ ملزمہ کے قبضہ سے تیز دھار خنجر موبائل اور نقد رقم برآمد کرلی گئی ہے۔ گرفتار خواتین ملزمان میں اللہ رکھی،سمیرا،عافیہ،سمیرا اور نازیہ شامل ہیں، جن کے خلاف مقدمات درج کرلیے گئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔