ایران کے جوہری سائنس دان خفیہ مقامات پر منتقل، اسرائیل کی نئی ہٹ لسٹ تیار
اشاعت کی تاریخ: 11th, August 2025 GMT
تہران (انٹرنیشنل ڈیسک) ایران اور اسرائیل کے درمیان جون میں ہونے والی بارہ روزہ خونریز جھڑپوں کے بعد ایک نیا اور سنسنی خیز مرحلہ شروع ہو گیا ہے۔ عرب میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق، اسرائیلی حملوں میں درجنوں ایرانی جوہری ماہرین کی ہلاکت کے بعد تہران نے اپنے باقی ماندہ سائنس دانوں کو فوراً منظر عام سے غائب کر کے انتہائی محفوظ اور خفیہ مقامات پر منتقل کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، یہ مقامات یا تو تہران کے سخت سکیورٹی والے علاقے ہیں یا پھر شمالی ایران کے ساحلی شہروں میں ایسے محفوظ ٹھکانے جہاں عام لوگوں کا داخلہ ممکن نہیں۔ متعدد سائنس دان اچانک اپنے گھروں اور یونیورسٹیوں سے غائب ہو گئے ہیں، اور ان کی جگہ ایسے افراد تعینات کیے گئے ہیں جن کا جوہری پروگرام سے کوئی تعلق نہیں، تاکہ ممکنہ دشمن کو کوئی سراغ نہ مل سکے۔
برطانوی اخبار کے مطابق، اسرائیلی ماہرین کا خیال ہے کہ ایران نے نئی نسل کے جوہری سائنس دان تیار کر لیے ہیں جو مارے جانے والے ماہرین کا کام سنبھال سکتے ہیں۔ ان افراد کو 24 گھنٹے سکیورٹی، بکتر بند گاڑیاں اور خفیہ رہائش فراہم کی جا رہی ہے، مگر اس کے باوجود وہ اسرائیلی نشانے سے محفوظ نہیں سمجھے جا رہے۔
ایرانی حکمتِ عملی کے تحت، ہر اہم سائنس دان کے ساتھ کم از کم ایک نائب موجود ہے، اور ماہرین دو یا تین کے گروپ میں کام کرتے ہیں تاکہ کسی ایک کے ہدف بننے کی صورت میں دوسرا فوراً اس کی جگہ لے سکے۔
اسرائیلی دفاعی انٹیلی جنس کے سابق عہدیدار دانی سیترینووچ کے مطابق، یہ ماہرین اب دو ہی راستوں پر ہیں: یا تو ایران کو جوہری ہتھیار کے قریب لے جائیں گے، یا پھر اسرائیل کے اگلے نشانے پر ہوں گے۔ ان کے بقول، جو کوئی بھی اس منصوبے کا حصہ بنے گا، اس کے سامنے موت یا موت کی دھمکی کے سوا کوئی اور انجام نہیں۔
یاد رہے کہ جون میں ہونے والی جھڑپوں کے دوران اسرائیل نے ایرانی فوجی اور جوہری مراکز پر بڑے حملے کیے تھے، جن میں درجنوں سائنس دان اور اعلیٰ فوجی افسر مارے گئے تھے۔ امریکا نے بھی بعض تنصیبات پر تباہ کن کارروائیاں کیں، اور اب ایران اپنے باقی ماندہ جوہری دماغوں کو محفوظ رکھنے کی دوڑ میں ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہ واقعی اسرائیل کی نئی ہٹ لسٹ سے بچ پائیں گے؟
Post Views: 6.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
طوفانی ہوائیں: موٹروے کے کئی مقامات پر ہیوی ٹریفک کا داخلہ بند
سٹی 42 : شدید آندھی اور طوفانی ہواؤں کے باعث موٹروے ایم-5 پر ہائی ٹرانسمیشن بجلی کی تاریں گر گئیں۔ حفاظتی اقدامات کے تحت روہڑی سے رحیم یار خان تک موٹروے پر ہیوی ٹریفک کا داخلہ بند کردیا گیا ہے۔
ترجمان موٹروے پولیس کے مطابق روہڑی اور پنوں عاقل سے شمالی سمت جانے والی ہیوی اور پبلک سروس گاڑیوں کا داخلہ روک دیا گیا ہے۔ موٹروے ایم-5 پر مقام 510 ساؤتھ باؤنڈ اور نارتھ باؤنڈ پر بجلی کی تاریں سڑک پر گرنے سے ٹریفک متاثر ہوئی ہے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
ترجمان موٹروے پولیس کا کہنا ہےکہ مسافروں کی حفاظت کے پیش نظر ٹریفک کو متبادل راستوں پر ڈائیورٹ کر دیا گیا۔ موٹروے پولیس کی جانب سے اقبال آباد اور گڈو کے مقامات پر متبادل راستوں کے ذریعے ٹریفک کو گزارا جا رہا ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ پنجاب سے سندھ جانے والے مسافر اقبال آباد سے بذریعہ رحیم یار خان قومی شاہراہ این-5 استعمال کر سکتے ہیں۔
ترجمان موٹروے پولیس کا کہنا ہےکہ موٹروے ایم-5 پر بجلی کی تاریں ہٹانے اور ٹریفک بحالی کے لیے اقدامات جاری ہیں ۔ سندھ سے پنجاب جانے والے مسافر رحیم یار خان سے قومی شاہراہ این-5 کے ذریعے موٹروے ایم-5 پر دوبارہ سفر جاری رکھ سکتے ہیں۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
موٹروے پولیس نے شہریوں سے غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔